52

رمضان میں مہنگائی کنٹرول کرنے کی ضرورت (اداریہ)

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی جہاں ساری فضاء کو روحانی ماحول اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے وہاں مہنگائی کا بے قابو جن بھی ہر طرف دندناتا پھرتا نظر آتا ہے جو کہ انتظامی ناکامی کے زمرے میں آتا ہے دنیا بھر میں آمد رمضان برکات اور اﷲ تعالیٰ کی رحمتیں سمیٹنے کیلئے امت مسلمہ کوشاں ہوتی ہے ہر کوئی اپنی بساط اور ہمت کے مطابق اﷲ کے راستے میں خرچ کرتا اور عبادات میں مشغول ہوتا ہے دنیا کے وہ ممالک جن کی بنیاد اسلام کی نہیں ہوتی وہاں پر تمام حکومتیں مسلم آبادی کے خصوصی سہولتیں اور خاص سطح پر رعایت کے بغیر کسی امتیازی سلوک کے دیتی ہیں اور ان کو احساس دلاتی ہیں کہ ہم سب اس ملک کے شہری ہیں اور آپ کا احترام ہم پر لازم ہے مسلم ریاستیں جن میں گلف سعودیہ جشن رمضان کے نام پر اپنے لوگوں کو افطار وسحر کے لیے بے دریغ خرچ کرتی ہیں مخیرحضرات خدمت کرنے کیلئے منت کے انداز میں خدمت کرتے ہیں مگر پاکستان میں ذخیرہ اندوز ناجائز منافع خور حرکت میں آ جاتے ہیں دکان دار سبزی منڈیاں فروٹ مارکیٹیں چکن بیف اور مٹن کے دکاندار دونوں ہاتھوں سے لوگوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایک کا بوجھ دوسرے پر اور دوسرا اپنا بوجھ تیسرے پر ڈالتا ہے اور اس طرح تمام بوجھ عام آدمی پر ڈال دیا جاتا ہے حکومت قانون شکن عناصر پر رٹ قائم کرنے میں ناکام رہتی ہے عوام سراپا احتجاج بنے رہتے ہیں اور یونہی وقت گزر جاتا ہے میڈیا اپنا کردار ادا کرتا ہے مگر انتظامیہ اور حکومت بیانات داغتی رہتی ہے کہ حکومت کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے رمضان نگہبان پیکج کے ذریعے تیس لاکھ غریب گھرانوں کی مدد کی جا رہی ہے اور پرائس کنٹرول ماڈل بازار لگائے جا رہے ہیں رمضان بازاروں میں تمام اشیاء خوردونوش مارکیٹ سے کم قیمت پر دستیاب ہونگی اور ان کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا مستحق افراد کے لیے دسترخوان بھی لگائے جا رہے ہیں وزراء اور ارکان اسمبلی رمضان بازاروں کی نگرانی کریں گے لیکن رمضان گزر جاتا ہے اور روزہ دار اس انتظار میں ہی رہ جاتے ہیں کہ ان کو ریلیف ملے گا قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارے گھر بیٹھے حکم جاری کر رہے ہوتے ہیں اس کام کو میدان عمل میں آئے بغیر نہیں کیا جا سکتا اور سپلائی اور ڈیمانڈ کو قائم رکھنے والی ٹیمیں گھر میں موجود رہتی ہیں اور عوام بازاروں میں لٹتی رہتی ہے انتظامی افسران پہلے عشرے میں کچھ کوشش اور کچھ اشتہارات سے ماحول بنانے میں مصروف رہتے ہیں دوسرے عشرے میں میٹنگ میٹنگ کا مظاہرہ اور حکمرانوں کو سب اچھا کی رپورٹ ارسال کی جاتی ہے تیسرے عشرے میں عید کے نام پر کمائی کی کھلی چھٹی اور منظر سے غائب ہو جایا جاتا ہے اور عید کے بعد عوام بے حال ہو کر اگلے ماہ تک مہنگائی کا رونا روتی ہے اور تقدیر کا لکھا سمجھ کر خاموشی اختیار کر لیتی ہے رمضان المبارک کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کے نفاذ کے اثرات بہترین ہو سکتے ہیں اگر ضروری اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہتی ہیں جس سے صارفین پر بوجھ کم ہوتا ہے کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے ضروری اشیاء سستی ہو جاتی ہیں ضروری اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے سے مہنگائی کے دبائو میں کمی ممکن ہے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پاس تمام وسائل قابل افسران اور متحرک عملہ موجود ہوتا ہے مگر ان سے یا تو صحیح طریقہ سے کام نہیں لیا جاتا پھر وہ بھی اسی رنگ میں ڈھل جاتے ہیں جو ان کے ساتھ کام کرتے ہیں تو حکومت کو رمضان المبارک کی آمد سے کم ازکم 3ماہ تمام انتظامات مکمل کر کے اس کی تفصیل صوبائی حکومتوں کو بھجوائے اور صوبائی حکومتیں ضلعی حکومتوں کو تفصیل سے آگاہ کریں جن کے تحت مہنگائی پر قابو پانے کے موثر اقدامات اشیاء خوردونوش کی سپلائی چین کا طریقہ کار عوام کو ریلیف فراہمی کے اقدامات رمضان بازاروں میں صارفین کو مارکیٹ سے کم داموں پر وافر مقدار میں اشیائے خوردونوش کی دستیابی سمیت موسم کے مطابق رمضان بازاروں میں صارفین کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی صارفین کی سکیورٹی اور دیگر انتظامات پر توجہ دی جائے جبکہ ماہ صیام میں تاجر برادری کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اس سے عام آدمی کو ریلیف ملنا تو درکنار اس کی ایسی درگت بنائی جاتی ہے کہ وہ دو ماہ تک مختلف قسم کے قرضوں میں جکڑا رہتا ہے ہماری حکمرانوں سے درخواست ہے کہ خدارا… سال بعد آنے والے اہم ترین ماہ صیام میں تو روزہ داروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے میں سنجیدہ ہو جائیں دنیا بھر میں ماہ مقدس میں عوام کیلئے آسانیاں پیدا کی جاتی ہیں مگر ہمارے ہاں اس مہینے میں عوام کو مہنگائی سے چھٹکارا حاصل نہیں ہوتا جو لمحہ فکریہ سے کم نہیں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں