131

وفاق اور پنجاب کا رمضان ریلیف پیکج (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے 20 ارب روپے کے رمضان پیکج کا افتتاح کر دیا جو گزشتہ سال 7ارب کے پیکج کے مقابلے میں 3گنا زیادہ ہے ریلیف پیکج کے تحت ملک بھر کے 40لاکھ خاندانوں کو شفاف اور آسان انداز میں ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے 5ہزار روپے فی خاندان دیئے جائیں گے، وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان ریلیف پیکج 2025 کی شفافیت کے لیے اسٹیٹ بنک’ ٹیک ادارے اور نادرا کی کاوشیں قابل تحسین ہیں ان اداروں کی محنت کا نتیجہ ہے کہ رمضان پیکج مستحق افراد تک پہنچے گا ملک بھر کے رمضان پیکج کو بغیر کسی تفریق کے متعارف کروایا جا رہا ہے جس سے کراچی تا گلگت تمام شہروں کے مستحق خاندان مستفید ہو سکیں گے وزیراعظم نے کہا کہ اﷲ کا شکر ہے کہ رمضان المبارک میں مہنگائی ماضی کے مقابلے میں کم ہے وزیراعظم نے کہا ہم اب یوٹیلیٹی اسٹورز سے جان چھڑا رہے ہیں ان کی نجکاری کی جائے گی جس سے بہتری آئے گی رمضان پیکج کے تحت اب لوگوں کو قطار میں نہیں لگنا پڑے گا بلکہ باعزت طریقے سے وہ ریلیف حاصل کر سکیںگے یوٹیلیٹی سٹورز پر بدعنوانی عروج پر تھی اب باقاعدہ نظام بنا دیا ہے جس کے تحت رمضان پیکج کی کڑی نگرانی ہو گی، ادھر وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب حکومت تاریخ میں پہلی مرتبہ 30ارب روپے کا مستحق رمضان ریلیف پیکج لائی ہے جس کے تحت 30لاکھ خاندانوں میں کیش کی صورت میں ان کے گھروں کی دہلیز تک پہنچا رہی ہے کسی بھی مستحق اور سفید پوش شہری کی عزت نفس مجروح نہیں کی جائے گی، وزیراطلاعات پنجاب نے کہا کہ پنجاب بھر میں 80رمضان سہولت بازار لگے ہیں جہاں سستی اور معیاری اشیاء دستیاب ہیں رمضان بازاروں میں گھی’ چینی’ آٹا’ دالیں’ سبزیاں اور پھل عام مارکیٹ کی نسبت ارزاں مل رہے ہیں لاہور میں 10′ راولپنڈی میں 8′ جہلم’ فیصل آباد’ ننکانہ صاحب میں 3،3 رمضان بازار ہیں جبکہ دیگر اضلاع میں بھی رمضان سہولت بازار لگے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ رمضان بازاروں میں اشیاء مہنگی فروخت ہونے یا سبسڈی ختم کرنے کا صرف پروپیگنڈہ ہے،، حکومت کو بلاشبہ درپیش صورتحال کا پوری طرح ادراک ہے اور وہ حتیٰ الوسع غریبوں کے دُکھ بانٹنے کیلئے کوشاں ہے رمضان المبارک میں عام حالات میں بھی قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں منافع خور اور ذخیرہ اندوز اس مہینے سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں حکوت نے اس رجحان پر قابو پانے کیلئے کچھ اقدامات کا اعلان کیا ہے لیکن روزانہ کی بنیاد پر بڑھتے نرخوں کی صورت حال قیمتوں پر کنٹرول کرنے والے نظام کو فعال کرنے کا تقاضا کرتی ہے وزیراعظم نے 20ارب کے رمضان ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے جبکہ حکومت پنجاب نے 30ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکج کا اعلان کیا جو خوش آئند ہے اور امید ہے کہ رمضان ریلیف پیکج کی بدولت مستحق افراد کی مالی مدد ہو گی اور وہ رمضان کیلئے راشن خرید سکیں گے تاہم حکومت کی جانب سے مستحق گھرانوں کیلئے جس مالی امداد کا اعلان کیا گیا ہے وہ کم ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ رقم کو بڑھایا جائے تاکہ غریب خاندان اپنے اہل بچوں کیلئے خوشیاں خرید سکیں علاوہ ازیں مخیر حضرات کو بھی مستحق افراد کی مالی امداد کے لیے آگے آنا چاہیے تاکہ مستحق افراد بھی ماہ رمضان آسانی کے ساتھ گزار سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں