65

معاشی بہتری کے فوائد عوام تک پہنچنا شروع (اداریہ)

مہنگائی 9سال کی کم ترین سطح پر آ گئی فروری میں شرح 1.5فی صد رہی وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ یہ مستعد ٹیم ورک کا نتیجہ ہے قوی امید ہے کہ افراط زر میں مزید کمی ہو گی، ہر گزرتے دن معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، پاکستان میں کنزیومر پرائس انڈیکس سے پیمائش کردہ مہنگائی فروری میں 1.5فی صد رہی جو جنوری میں 2.4فی صد اور گزشتہ سال فروری میں 23.1 فی صد تھا وزیراعظم نے کہا کہ یہ امر انتہائی خوش آئند ہے کہ افراط زر فروری 2025ء میں 1.5فی صد پر آ گئی جو کہ ستمبر 2015ء کے بعد سب سے کم شرح افراط زر ہے انہوں نے کہا کہ جولائی 2024ء سے فروری 2025ء تک افراط زر کی اوسط 5.9فی صد تک رہی جبکہ پچھلے مالی سال میں اسی عرصہ میں یہ اوسط 28فی صد تھی معیشت کی بہتری کاروبار اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے تمام ادارے مل کر کام کر رہے ہیں اور ارزاں نرخوں پر اشیائے ضروریہ کیف راہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے” مسلم لیگ (ن) کی مخلوط حکومت کا ایک سال مکمل ہو گیا ہے وزیراعظم شہباز شریف کی معاشی ٹیم کی شبانہ روز محنت رنگ لا رہی ہے اور ملک کی معاشی صورتحال گزشتہ سال کی نسبت کافی بہتر ہو چکی ہے (ن) لیگ نے ریاست کی خاطر اپنی سیاست کو دائو پر لگایا اور ڈیفالٹ سے ملک کو بچایا وزیراعظم کی قیادت میں ملکی مفاد کے لیے کئے گئے فیصلے قابل تعریف ہیں جن کی بدولت عوام تک معاشی ترقی کے فائدے پہنچنا شروع ہو چکے ہیں شرح سود میں کمی ہوئی’ سٹاک ایکسچینج میں بہتری آ رہی ہے خارجہ محاذ پر پی ٹی آئی دور حکومت میں پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار تھا تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے برادر اسلامی ممالک کے تعاون سے معاشی صورتحال کو بہتر بنایا آج عالمی سطح پر پاکستان کے لیے اچھے جذبات اور تاثرات کا اظہار کیا جا رہا ہے سعودی عرب’ متحدہ عرب امارات’ ترکیہ نے پاکستان میں سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ورلڈ بنک اور ایشین بنک بھی پاکستان پر اعتماد کر رہے ہیں اور سرمایہ کاری کی منصوبہ کی جا رہی ہے آذربائیجان کے صدر نے پاکستان میں 2ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا کہا ہے ازبکستان کے صدر نے پاکستان کی عالمی سطح پر منفرد حیثیت کو تسلیم کیا معاشی بحالی کے سفر میں ایس آئی ایف سی کا اہم کردار ہے اور پاکستان آج اس مقام پر پہنچا ہے کہ یہاں بیرونی سرمایہ کار سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں دو سال قبل پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا تھا اور آج بحالی کی طرف جا رہا ہے وزیراعظم نے عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ کہا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کا ہمارا آخری پروگرام ہو! اور اس حوالے سے وزیراعظم نے معاشی استحکام کیلئے جو بھی فیصلے کئے ان کے ثمرات سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں حکومت کی معاشی ٹیم دن رات ملک کو معاشی ترقی کے ٹریک پر گامزن کرنے کیلئے کوشاں ہے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ ملک کے سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری کر رہے ہیں جبکہ حکومت کی کوشش ہے کہ صنعتوں کو فروغ دیا جائے ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں زرعی شعبہ کی بہتری اور ترقی کے لیے اقدامات میں تیزی لائی جائے سٹیٹ بنک کی جانب سے شرح سود میں کمی کے بعد کاروباری اداروں کو ریلیف ملا ہے اور وہ اپنے کاروبار کو وسعت دینے کیلئے کوشاں ہیں جبکہ حکومت بجلی کے بلوں میں کمی کیلئے بھی منصوبہ بندی کر رہی ہے جس کا مقصد صنعتوں کو ریلیف دیکر ان کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی پیداوار میں اضافہ کرنا شامل ہے رئیل سیکٹر میں ٹیکسوں کی کمی کیلئے بھی پلاننگ جاری ہے آئی ایم ایف سے اس سلسلے میں رابطے بھی کئے جا رہے ہیں اس سلسلے میں مثبت پیش رفت کی امید کی جا رہی ہے موجودہ حکومت عام کاروباری اداروں کیلئے بھی آسانیاں پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہے جو خوش آئند ہے پوری قوم کو امید ہے کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت کے دوران ملک وقوم کے لیے بہترین فیصلے کر کے ان کی خوشحالی کو ممکن بنائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں