100

انسانی سمگلنگ کیخلاف کارروائیاں تیز کرنے کے احکامات (اداریہ)

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ کے سرغنہ کی گرفتاری پر وفاقی تحقیقاتی ادارے اور انٹیلی جنس بیورو کے افسران کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے گھنائونے جرم کے مرتکب عناصر کی سرکوبی حکومت کی اولین ترجیح ہے یہ کالا دھندہ مکمل طور پر بند ہونا چاہیے وزارت داخلہ’ ایف آئی اے اور آئی بی کے حکام جو انسانی سمگلنگ کے خاتمہ کیلئے کام کر رہے ہیں انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائیاں تیز کریں ججہ گینگ کی گرفتاری قابل تحسین ہے یہ بات وزیراعظم نے ایف آئی اے اور آئی بی حکام سے ملاقات کے دوران ہی اس موقع پر وزیراعظم نے انسانی اسمگلنگ کے آپریشن میں حصہ لینے والے ایف آئی اے اور آئی بی افسران کو انعامی چیک اور شیلڈز بھی فراہم کیں وزیراعظم نے کہا انسانی سمگلنگ میں ملوث ججہ گینگ کی گرفتاری لائق تحسین ہے اس دھندے میں ملوث افراد نے نہ صرف پاکستان کو بدنام کیا ہے بلکہ بہت سے خاندانوں کے نوجوانوں کو اپنے مذموم دھندے کی بھینٹ بھی چڑھایا ایف آئی اے اور آئی بی کو ہدایت کی کہ پاکستان کی عزت ووقار کی بحالی بروئے کار لائیں وزیراعظم کو عثمان ججہ نامی شخص کی گرفتاری کے حوالہ سے بتایا گیا کہ عثمان ججہ 19کیسز میں مطلوب تھا اور انسانی سمگلنگ کا مرکزی ملزم تھا وزیراعظم نے ہدایت کی کہ انسانی اسمگلن کے تدارک کا کام جاری وساری رکھا جائے پوری قوم اور میں آپکی معاونت کریں گے تاکہ انسانی اسمگلنگ کے دھندے کی مکمل بیخ کنی کی جا سکے ملاقات کے آخر میں وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے وزیراعظم سے متعلقہ حکام کا تعارف کرایا جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اﷲ تارڑ اور سیکرٹری داخلہ بھی ملاقات میں موجود تھے وزیراعظم نے انسانی سمگلر عثمان ججہ کو گرفتار کرنے والے آئی بی اور ایف آئی اے کے ہر افسر کو 10، 10لاکھ روپے انعام دیا، عثمان ججہ 2024ء میں یونان کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کے اموات کے ذمہ داران میں مرکزی کرداروں میں سے ایک ہے جسے بڑی تگ ودو کے بعد تحقیقاتی اداروں نے حراست میں لیا ہے،، انسانی جانوں کے ضیاع میں ملوث انسانی سمگلروں کے خلاف وزیراعظم کے احکامات پر اہم وفاقی تحقیقاتی ایجنسیوں نے یونان کشتی حادثے کے اہم کرداروں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے ان کو گرفتار کر کے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اس حوالے سے انسانی سمگلنگ کے بڑے اور مرکزی کرداروں میں سے ایک کردار عثمان ججہ کی گرفتاری پر وزیراعظم نے آئی بی اور ایف آئی اے افسران کو انعامات اور شیلڈز دی ہیں اور ساتھ ہی ہدایت کی ہے کہ انسانی سمگلنگ کے دھندے میں ملوث انسانی سمگلروں کے گرد گھیرا مزید تنگ کر کے ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے کیونکہ انسانی اسمگلنگ کے باعث پاکستان کی عالمی طور پر بہت بدنامی ہوئی یونان کشتی حادثہ کے بعد وزیراعظم کے حکم کے بعد ایف آئی اے اور آئی بی کی ٹیموں نے بیرون ملک میں بھی تحقیقات کی اور ملزمان کا سراغ لگانے کی کوششیں کیں اور پاکستان میں بھی انسانی اسمگلرز کے خلاف کارروائیاں کیں گوجرانوالہ’ سیالکوٹ’ گجرات ودیگر شہروں میں چھاپے مار کر اس دھندے میں ملوث ملزمان کو حراست میں لیا تھا تاہم حادثے کے مرکزی ملزم تحقیقاتی اداروں کی نظروں سے چھپے ہوئے تھے آئی بی اور ایف آئی اے نے مسلسل کوششیں کر کے بالآخر مرکزی ملزم عثمان ججہ کو گرفتار کر لیا جبکہ تحقیقاتی ادارے دیگر گینگز کی گرفتاری کے لیے بھی متحرک ہیں وزیراعظم کے حکم کے بعد انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے گرد مزید گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ بہت جلد دیگر ملزمان بھی قانون کے کٹہرے میں ہوں گے انسانی اسمگلنگ کے دھندے میں ملوث ملزمان اتنے سفاک تھے کہ اپنی آنکھوں میں خوشحالی کے سہانے خواب سجا کر بیرون ملک جانے والوں کی جمع پونجی لوٹنے کے ساتھ ساتھ ان کو موت کے حوالے کرنے سے بھی نہیں گھبراتے تھے یونان حادثے میں محفوظ رہنے والے جن افراد کو ریسکیو کیا گیا ان میں سے بیشتر نے انسانی اسمگلرز اور ان کے کارندوں کے مظالم سن کر لوگ کانپ جاتے تھے یونان کشتی حادثے سمیت دیگر کشتی حادثات میں پاکستانیوں کی اموات پر حکومت نے انسانی اسمگلروں کے خلاف فوری کارروائیاں کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد بہت سے ملزمان پکڑے جا چکے ہیں دیگر کے خلاف تحقیقاتی ادارے متحرک ہیں امید ہے کہ بقایا ملزمان کو بھی ایف آئی اے اور آئی بی افسران واہلکاران ڈھونڈ نکالیں گے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مذموم دھندے میں جو سرکاری ملازمین بھی ملزمان کے سہولت کار بنے ان کے گرد بھی شکنجہ کسا جائے تاکہ یہ دھندہ مکمل طور پر بند ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں