48

بھارتی جارحانہ اقدام کیخلاف قوم متحد (اداریہ)

ایک بار پھر جنوبی ایشیا کے دو جوہری ہمسایوں’ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی نے سر اٹھایا ہے بھارت نے پہلگام میں ہونے والے واقعہ کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا ہے اور سندھ طاس معاہدے کو بھی نشانہ بنایا اس معاہدے کی رو سے بھارت اور پاکستان کے درمیان دریائوں کے پانی کی تقسیم کار کا طریقہ کار طے کیا گیا تھا بھارت اس معاہدے کی خلاف ورزی کر کے جنوبی ایشیا میں آبی جنگ کی بنیاد رکھ رہا ہے جو انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے پاکستان نے بھی بھارت کے آبی جارحیت کے جواب میں قومی سلامتی کے ہنگامی اجلاس میں بھارت کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے اور سندھ طاس معاہدے سے بھارت کے یکطرفہ طور پر نکلنے کے اعلان کو جنگ سے تعبیر کیا ہے اور بھارت کو واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اگر پاکستان کا پانی روکا گیا تو پاکستان اسے اپنے اوپر حملہ تصور کرے گا، بھارت کے جارحانہ اقدام کے خلاف پوری پاکستانی قوم متحد ہے اور ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے افواج پاکستان سکیورٹی اداروں اور حکومت کے ساتھ ہے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے واقعہ کا الزام پاکستان پر لگایا حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ بھارت ماضی میں بھی کئی ایسے واقعات کے الزامات بھی پاکستان پر لگا جا چکا ہے 2007ء میں سمجھوتہ ایکسپریس کا واقعہ ہوا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اس واقعے کا ماسٹر مائنڈ بھارتی فوج کا میجر رمیش تھا 2008ء کے ممبئی حملے 2018ء میں کیرالہ میں سیاحوں پر حملے 2019ء میں پلوامہ حملے’ ان سب کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالی گئی مگر اس سلسلے میں کوئی شواہد سامنے نہ آ سکے پہلگام واقعے پر بھارتی سیاسدانوں سونیا گاندھی اور راہول گاندھی نے کشمیر کی اندرونی صورتحال اور بھارتی حکومت کی ہندو توا ذہنیت کا نتیجہ قرار دیا ہے، یہ حقیقت ہے کہ بھارت قیام پاکستان کے وقت سے ہی اسکی سلامتی کیخلاف سازشوں میں ہمہ وقت مصروف ہے بھارتی حکمران پاکستان میں افراتفری کیلئے نت نئے پراپیگنڈے کر کے اسے عالمی سطح پر بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ماضی میں کئی ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں مگر بھارت اپنی متعصبانہ سوچ سے پیچھے نہیں ہٹ رہا اب نئی سازش سامنے آئی ہے جو مقبوضہ وادی میں ایک افسوسناک واقعہ کی صورت میں سامنے آئی ہے اس افسوسناک واقعہ کا ذمہ دار بھی بھارت نے پاکستان کو ٹھہرایا ہے جسے پاکستان نے مسترد کیا ہے دونوں ملکوں کے درمیان 1960ء میں عالمی بنک کی ثالثی میں سندھ طاس معاہدہ طے پایا مگر بھارت نے کبھی اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی اور وہ پاکستان کے حصے میں آنے والے دریائوں پر بھی اپنی جانب سے سینکڑوں چھوٹے بڑے ڈیمز تعمیر کر چکا ہے اس کے ناجائز تعمیر کردہ کشن گنگاڈیم کے خلاف پاکستان کا کیس تو اس وقت بھی عالمی عدالت میں زیرسماعت ہے، بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز اور جنگی بیانیہ نہ صرف خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ ہے بلکہ خود بھارت کے جمہوری ڈھانچے اور ساکھ کو بھی کمزور کر رہا ہے اس کی مودی سرکاری کو پاکستان دشمنی میں پروا نہیں ہے بھارتی میڈیا’ فوج اور سیاسی قیادت اگر مل کر صرف جنگ کی بات کریں گے تو ایک نہ ایک دن یہ شعلے سب کو جلا ڈالیں گے پاکستان کو ہر محاذ پر بھارت کی تمام سازشوں کا بھانڈا پھوڑنے کیلئے سفارتی سطح پر سرگرم ہونا ہو گا اور بھارت کے الزامات کا بھرپور جواب دینا ہو گا پوری پاکستانی قوم افواج پاکستان کے ساتھ ہے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے سے فی الحال پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں لیکن فضائی حدود بند کر کے اوپر بھارت سے تجارتی رابطے روک کر پاکستان نے بھارت کو پہلے ہی اچھا خاصا نقصان پہنچا دیا ہے کلکتہ اور دلی سے مشرق وسطی سنٹرل ایشیا’ یورپ اور اس سے آگے امریکہ تک جانب جانے والی سبھی پروازیں پاکستان سے ہو کر جاتی ہیں کہ یہی شارٹ کٹ ہے اب ان سب پروازوں کی مسافت میں 2،2 ہزار کلومیٹر کا اضافہ ہو گیا ہے افغانستان اور اس کے ذریعے وسط ایشیا تک ٹرانزٹ ٹریڈ رُک جانے سے الگ نقصان ہوا، اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی کلاف ورزی کا نوٹس لے جنوبی ایشیا میں آبی تنازعے کو روکنے کیلئے مؤثر اقدامات کرے، دو ایٹمی قوتوں کے آپس میں ٹکرانے سے دنیا پر بھی منفی اثرات ہوں گے عالمی قوتوں کو بھارت کی حمائت کرنے کے بجائے اسے جنوبی ایشیا میں امن کے کردار کیلئے رضامند کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں