رشتہ کے تنازعہ پر سکیورٹی گارڈ قتل،نوجوان کی خودکشی،تاجر کیساتھ2کروڑ کا فراڈ

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) رشتہ کے تنازعہ پر مسلح افراد کی فائرنگ سے سکیورٹی گارڈ قتل’ حالات کے ستائے نوجوان نے زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی’ آوارہ گولی لگنے سے 10سالہ بچی لہولہان’ چالاک ملزم کاروباری معاملات پر تاجر کے دو کروڑ لے اُڑا’ پولیس مصروف تفتیش ہے۔ تفصیل کے مطابق خان ماڈل کالونی کا رہائشی 35سالہ شیر احمد ولد اول جان لیاقت آباد میں بطور سکیورٹی گارڈ ڈیوٹی کرتا تھا، پولیس ذرائع کے مطابق مذکورہ سکیورٹی گارڈ شیر احمد نے پسند کی دوسری شادی کر لی تو مبینہ ملزمان ڈھول خان بھی اسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا جس پر ملزمان ڈھول خان نے اپنے ساتھیوں نیاز خان وغیرہ سے ملکر لیاقت آباد میں اندھا دھند فائرنگ کر کے سکیورٹی گارڈ کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور فائرنگ کرتے ہوئے موقع سے فرار ہو گئے، پولیس نے نعش قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کر کے قاتلوں کی تلاش شروع کر دی۔ جبکہ ماموں کانجن کے علاقہ غوثیہ کالونی کے رہائشی 18سالہ نوجوان کامران نے حالات سے دل برداشتہ ہو کر گندم میں رکھنے والی گولیاں نگل لیں جسے تشویشناک حالت میں ہسپتال لایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کا معدہ واش کر کے جان بچانے کی کوشش کی لیکن وہ دوران علاج زندگی کی بازی ہار گیا، ہسپتال انتظامیہ نے ضروری کارروائی کے بعد نعش ورثاء کے حوالے کر دی۔ علاوہ ازیں بٹالہ کالونی کے علاقہ آبادی وزیر خان میں گھر کی چھت پر سوئی ہوئی 12سالہ لڑکی علیشاء دختر محمد شریف اندھی گولی لگنے سے بری طرح زخمی ہو گئی جسے طبی امداد کی غرض سے ہسپتال داخل کروا دیا گیا۔ دریں اثناء بھوآنہ بازار کے تاجر ابرار حسین نے کوتوالی پولیس کو درخواست گزارتے ہوئے بتایا کہ اس کے واقف کار ملزم بلال نے کاروبار کیلئے 2کروڑ کی رقم حاصل کر کے حسب معاہدہ منافع دیا نہ رقم واپس کی۔ رقم کا مطالبہ کرنے پر چیک دیا جو کہ بنک سے کیش نہ ہو سکا، پولیس نے جعلی چیک کے الزام میں مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں