درآمدی ڈیوٹیوں کے مرحلہ وار خاتمے کی منظوری

اسلام آباد (بیوروچیف) وفاقی حکومت نے درآمدی ڈیوٹیوں میں نمایاں کمی کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اضافی کسٹمز ڈیوٹی (اے سی ڈی) اور ریگولیٹری ڈیوٹی (آر ڈی) کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا، یہ اقدام سرمایہ کاری کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کے لیے کیا گیا ہے۔وزیرِ اعظم آفس (پی ایم او) سے جاری بیان کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ آئندہ چار سے 5 برسوں میں اضافی کسٹمز ڈیوٹی جو اس وقت 2 فیصد سے 7 فیصد تک ہے اور ریگولیٹری ڈیوٹی جو 5 سے 90 فیصد تک عائد ہے کو ختم کردیا جائے۔علاوہ ازیں وزیرِ اعظم نے کسٹمز ڈیوٹی (سی ڈی) کو زیادہ سے زیادہ 15 فیصد تک محدود کرنے کی تجویز کی بھی منظوری دے دی ہے حالانکہ اس وقت بعض اشیا پر سی ڈی کی شرح 100 فیصد سے بھی تجاوز کرجاتی ہے۔دریں اثنا کسٹمز ڈیوٹی کی شرح (سی ڈی سلیبز)کی تعداد کم کرکے 4کر دی گئی ہے، جس کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے درآمدات سے متعلق قانونی پیچیدگیاں نمایاں طور پر کم ہوں گی اور مختلف صنعتوں کے لیے مساوی مواقع یقینی بنائے جا سکیں گے۔یہ پیش رفت وزیراعظم آفس میں منعقدہ نیشنل ٹیرف پالیسی سے متعلق ایک اہم اجلاس کے دوران سامنے آئی۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مضبوط معیشت کے قیام، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مہنگائی کے مکمل اور دیرپا خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ بنیادی اقتصادی اصلاحات کے لیے جامع منصوبہ وسیع مشاورت کے بعد مرتب کرلی گئی ہے۔اس اقتصادی بحالی کے ایجنڈے کے تحت وزیراعظم نے درآمدی محصولات میں تدریجی کمی کی منظوری دی ہے۔یہ اقدام معیشت کی بہتری کی جانب ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے اور برآمدات کی بنیاد پر ترقی کا راستہ ہموار کرے گا۔یہ فیصلہ بے روزگاری کو کم کرنے اور مہنگائی کو قابو میں لانے میں مددگار ثابت ہوگا، اس کے علاوہ، اس سے بین الاقوامی سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے جو نئی روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔وزیراعظم آفس کے مطابق اس فیصلے سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے اور ملکی صنعتوں کو خام مال، درمیانی مصنوعات اور سرمایہ کاری کے آلات تک آسان اور سستی رسائی حاصل ہوگی۔اجلاس کے دوران وزیراعظم نے تجویز کے تمام پہلوں کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکسز میں کمی نہ صرف کرنٹ اکائونٹ خسارے کو مستحکم کرے گی بلکہ کسٹمز ڈیوٹیوں سے حاصل ہونے والی موجودہ آمدنی سے زیادہ محصولات بھی جمع کرنے میں مدد دے گی۔وزیراعظم شہباز شریف نے عمل درآمد کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی۔اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احسن اقبال، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیراعظم کے خصوصی معاون ہارون اختر، اور متعلقہ محکموں کے اعلی حکام بھی شریک تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں