نئی صنعتی پالیسی اعلان بہت جلد کردیا جائے گا

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) بنیان المرصوص کی کامیابی کے بعد پاکستان کو دنیا کی 20بڑی معیشتوں میں شامل کرنے کیلئے نئی صنعتی پالیسی کا اعلان بہت جلد کردیا جائے گا۔ یہ بات صنعت و پیداوار بارے وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی 50سالہ گولڈن جوبلی تقریبات میں وزیر اعظم شہباز شریف کی نمائندگی کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیغام لے کر آئے ہیں کہ حکومت فیصل آباد کو بہت اہمیت دیتی ہے اور اس شہر کی صنعتوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس سے قبل ہارون اختر خان کا خیر مقدم کرتے ہوئے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ریحان نسیم بھراڑہ نے چیمبر کی 50سالہ گولڈن جوبلی تقریب میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بنیان المرصوص آپریشن کی کامیابی کے بعد یہ لازم ہوگیا ہے کہ ہم معیشت کو بھی مستحکم اور پائیدار بنیادوں پر استوار کریں۔انہوں نے معرکہ حق میں شاندار کامیابی پر وزیر اعظم میاں شہباز شریف، چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا، چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر، چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف، اور پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے صنعتی شعبہ کو درپیش مسائل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ حکومت کو کاروبار کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں۔ انہوں نے فیڈمک کے زیر اہتمام چلنے والی مختلف انڈسٹریل اسٹیٹس میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کو فضائی سفر کی سہولتیں مہیا کرنے کیلئے قریب ترین علاقے میں نئے جدید ایئر پورٹ کے قیام کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کارگو کمپلیکس بھی فیصل آباد کی ضرورت ہے جس کے ذریعے اس شہر سے کم و بیش 25ہزار ٹن سالانہ کارگو برآمد کیا جا سکے گا۔انہوں نے ممبران کی سہولت کیلئے فیصل آباد چیمبر میں پاسپورٹ آفس کے قیام کو بھی ناگزیر قرار دیا اور پنڈی بھٹیاں۔فیصل آباد موٹروے کو 6لین کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ 1934 کے ایکٹ کے مطابقDPLکی definitionمیں صرف پٹرولیم گڈز آتی ہیں لہذا درآمدی کیمیکل پر اس شق کا اطلاق نہ کیا جائے۔انہوں نے ٹریڈرز کیلئے آسانیاں پیدا کرنے اور ٹیکسیشن کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے اعلان کے مطابق فیصل آباد میں آئی ٹی یونیورسٹی قائم کی جائے۔ انہوں نے فیصل آباد میں حاجی کیمپ کے قیام اور یہاں سے براہ راست حج پروازیں شروع کرنے کا مطالبہ بھی دوہرایا۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد سے کراچی کیلئے روزانہ کی بنیاد پر پروازیں بھی شروع کی جائیں۔ تقریب سے سابق صدر میاں محمد ادریس نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ کاروباری اداروں کو مختلف محکموں کی طرف سے ہراساں کرنے کی روک تھام کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ لوگ ٹیکس دینا چاہتے ہیں اس سلسلہ میں لائسنس دے کر ان کو محکموں کی طرف سے ہراساں کرنے کی روک تھام کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بینکوں کا سودی نظام ختم ہو رہا ہے مگر بعض عناصر اس کی راہ میں روکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور مسلمان ہمارا فرض ہے کہ اس قسم کی سازشوں کی بروقت روک تھام کی جائے۔ سوال و جواب کی نشست میں عارف احسان ملک، میاں محمد لطیف، محمد اکرم، احتشام جاوید، چوہدری محمد نواز، حاجی محمد اسلم بھلی، میاں آفتاب، نوید گلزار، وحید خالق رامے اور ایوب اسلم منج نے حصہ لیا۔ اس سے قبل اپنی آمد کے فورا بعد ہارون اختر خان نے چیمبر کی گولڈن جوبلی اور مسلح افواج کی کامیابیوں کے سلسلہ میں کیک کاٹا۔ انہوں نے چیمبر کی مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کئے جبکہ آخر میں صدر ریحان نسیم بھراڑہ نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کو چیمبر کی شیلڈ پیش کی جبکہ ہارون اختر خاں نے بھی ایگزیکٹو ممبران میں شیلڈیں تقسیم کیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں