اسرائیل کی غزہ پر بمباری’119فلسطینی شہید

غزہ، بغداد، برسلز (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر صبح سویرے بمباری شروع کر دی گئی جس سے 119 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق یہ شدید حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسرائیل غزہ پر ایک نئے زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے اور قطر میں حماس کے ساتھ جنگ بندی کے مذاکرات بھی دوبارہ شروع کر چکا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ 3دن کے دوران اسرائیلی حملوں میں 400سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کی جنگ میں اب تک کم از کم 53ہزار 272فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 20ہزار 763زخمی ہو چکے ہیں۔حکومت کے میڈیا دفتر نے شہادتوں کی تعداد 61ہزار 700سے زائد بتائی ہے اور کہا ہے کہ ملبے تلے دبے ہزاروں لاپتہ افراد کو بھی مردہ تصور کیا جا رہا ہے۔لیبیا میں امریکی سفارتخانے نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فلسطینیوں کو غزہ سے لیبیا منتقل کرنے کے منصوبے کی تردید کی ہے۔ایکس پر ایک مختصر پوسٹ میں سفارتخانے نے کہا کہ غزہ کے باشندوں کو لیبیا منتقل کرنے کے مبینہ منصوبے کی رپورٹ درست نہیں ہے۔امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہی ہے، جس کے تحت غزہ کی پٹی سے 10لاکھ فلسطینیوں کو مستقل طور پر لیبیا منتقل کیا جائے گا۔ادھر عرب لیگ نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں فوری طور پر جنگ روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔بغداد میں منعقدہ عرب لیگ کے 34ویں سربراہی اجلاس میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی گئی، سربراہی اجلاس میں فلسطینی صدر محمود عباس، امیر قطر شیخ تمیم بن حمدالثانی، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، عراقی صدر عبداللطیف راشد، سعودی وزیرِ خارجہ عادل الجبیر اور دیگر رہنمائوں نے شرکت کی۔سعودی وزیرخارجہ نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی کوشش کو یکسر مسترد کر دیا۔علاوہ ازیں یورپی کونسل کے صدر انٹونیو کوسٹا نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں توسیع کے اعلان پر صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے تشدد بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ایکس پر کوسٹا نے لکھا کہ غزہ کی صورتحال مجھے صدمہ پہنچا رہی ہے، شہری بھوک سے مر رہے ہیں، ہسپتالوں پر دوبارہ بمباری ہو رہی ہے، تشدد بند ہونا چاہئے۔قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گونتراس نے کہا ہے کہ غزہ کی صورت حال بیان سے باہر ہے، جنگ بند کی جائے، اقوام متحدہ کے مطابق بین الاقوامی تنظیم کے پاس ایک لاکھ 60ہزار امدادی کھیپ غزہ میں داخلے کی اجازت ملنے پر حرکت کرنے کے لیے تیار ہے۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے غزہ کی صورتحال کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں