گھروں میں ایک سے زائد بجلی میٹرلگوانے والوں کیخلاف نیا قانون

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ایک ملک۔ دو قانون’ ایک گھر میں دوسرا میٹر لگوانا غلط جبکہ مختلف یونٹس استعمال کرنے پر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ جائز قرار دے دیا گیا، موجودہ حکومت نے غریب اور مہنگائی کی چکی میں پسی عوام کو 200 سے کم یونٹس استعمال کرنے کیلئے گھروں میں بجلی کا دوسرا میٹر لگوانے والوں کے خلاف شکنجہ تیار کر لیا، جسکی وجہ سے عوام کی نیندیں حرام ہو گئیں۔ تفصیل کے مطابق وفاقی وزیر پانی وبجلی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے کہنے پر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور اس کے استعمال کرتے ہوئے زیادہ میٹر لگوانے والوں کا حل لا رہے ہیں اور گھروں میں دوسرا میٹر لگوانے والوں کو یہ کڑی شرائط عائد کرتے ہوئے حلف نامہ بھی دینا ہو گا۔ جبکہ حکومت کی طرف سے بجلی کے استعمال کرنے والے 50، 100، 200، 300، 400 یونٹس کے ریٹ مقررہ کرنے اور پروٹیکٹڈ دائرہ میں داخل ہونے والوں کیلئے کوئی رعایت نہیں دی جا رہی ہے۔ جسکی وجہ سے گرمی کے موسم میں لوڈشیڈنگ اور بجلی کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ کی وجہ سے صارفین کو پہلے ہی پریشان کر رکھا ہے اور حکومت غریب عوام پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے جبکہ عوام کو ریلیف دینے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کر رہی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اشرافیہ اور غرباء کیلئے الگ الگ قانون بنا رکھے ہیں۔ اشرافیہ’ بیوروکریٹس’ سرکاری ملازمین کو مفت بجلی جبکہ غریب عوام پر آئے روز بجلی کے بلوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے قبل ازیں بھی آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کیلئے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور نیا ٹیرف دیکر جو 50یونٹ استعمال کرنے والے کے ریٹ الگ ہونگے۔ 100، 200 کے علیحدہ اور 201 سے 300 اور پھر 500 یونٹس بجلی استعمال کرنے والوں کو بجلی کی الگ قیمتیں ادا کرنا ہونگی۔ شہری کا کہنا ہے کہ حکومت نے دو میٹر لگوا کر 200یونٹ سے کم استعمال کو جرم بنا دیا ہے، ایک دفعہ200یونٹ استعمال ہونگے تو اگلے چھ ماہ بے شک 200سے کم یونٹس کم ہوں مگر ریٹ زیادہ ہی لگے گا۔ ایک شہری کا کہنا ہے کہ دو ماہ قبل اس کے ایک ماہ میں114یونٹ تھے بل4800تھا جو کہ آخری بل میں چھ ماہ کا عرصہ مکمل ہوا تھا تو چھ ماہ کا عرصہ گذرنے کے بعد 174یونٹس استعمال ہوئے جس کا بل1800روپے آیا۔ تقریبا32روپے فی یونٹ کا فرق پڑ اہے۔ جس پر شہریوں نے مہنگے ٹیرف سے بچنے کیلئے دو یا اس سے زیادہ میٹر لگوائے ہیں، شہری حلقوں کاکہنا ہے کہ اگر حکومت ایک گھر دو میٹر لگوانے کو ختم کر رہی ہے تو بجلی کے ریٹ بھی فکسڈ کئے جائیں، ایک یونٹ سے جتنے مرضی یونٹس استعمال کرے اس کو بجلی ایک ہی قیمت لگائی جائے اور بلواسطہ یا بلا واسطہ ٹیکسوں کو بھی ختم کیا جائے۔ کوئی 50یونٹ استعمال کرے یا 500اس کو ایک ہی ریٹ پر بل بھجوایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں