ترقیاتی بجٹ’100ارب کی کٹوتی

اسلام آباد(بیوروچیف) آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں 100ارب روپے کی کٹوتی کوئی اہم منصوبہ شامل نہیںوفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ایک ہزار ارب روپے کے 118ترقیاتی منصوبے ختم کر دیئے جبکہ وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کا ترقیاتی بجٹ 1000ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جو رواں سال کے مقابلے میں 100ارب روپے کم ہے محدود وسائل کے باعث صرف انتہائی اہم اور قومی مفاد کے حامل منصوبے شامل کیے جا سکے ہیںاگر کوئی اہم منصوبہ ترقیاتی بجٹ میں شامل نہ ہو سکا تو اس پر پیشگی معذرت خواہ ہیں نصف سے زائد بجٹ قرضوں کی ادائیگی میں جائے گاآئندہ برس معیشت کا حجم 129.6ٹریلین روپے مقرر کیاگیا ہے دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں سماجی شعبے کے لیے رواں برس کے مقابلے میں 50ارب روپے کمی کر دی گئی ہے ، صحت کے شعبے کے لیے 13ارب روپے ، تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے لیے 20ارب روپے کمی کردی گئی ہے جبکہ پارلیمنٹرینز کی ترقیاتی اسکیموں (ایس ڈی جیز پروگرام ) کے لیے مختص بجٹ میں کوئی کمی نہیں کی گئی اوررواں برس کے طرح آئندہ برس بھی 50ارب روپے مختص کر دیئے گئے ہیں ، آئندہ مالی سال وفاقی ترقیاتی بجٹ کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ رواں مالی سال کیلئے ترقیاتی بجٹ میں 1400ارب روپے مختص کیے گئے تھے اس طرح رواں برس ترقیاتی بجٹ میں 400ارب روپے کی کمی کردی گئی ہے جس میں سے 31مئی 2025تک 596ارب روپے استعمال کیے گئے ہیںذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے ایک ہزار ارب روپے میں سے 120ارب روپے پیٹرولیم لیوی کی وہ رقم بھی ہے جو بلوچستان کے لیے مختص کی گئی ہے ، دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے ایک ہزار ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں سیانفراسٹرکچر کے لیے 644ارب روپے مختص کیے گئے ہیںان میں سے 144ارب روپے توانائی کے شعبے ، 332ارب روپے ٹرانسپورٹ و مواصلات ، پانی 109ارب روپے ، فزیکل پلاننگ و ہائوسنگ 59ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں