55

احتجاج نہیں’ قومی مفاہمت کی ضرورت (اداریہ)

ملک تاحال سیاسی استحکام سے محروم ہے ایک سیاسی جماعت پھر سے احتجاجی تحریک چلانے کا اظہار کر رہی ہے بڑی مشکل سے ملک کی معاشی صورتحال بہتر ہو گئی ہے وزیراعظم اور انکی معاشی ٹیم کی ان تھک کوششوں سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے آئی ایم ایف ٹیم بھی پاکستان کی کوششوں پر اعتماد کر رہی ہے ایسے میں ایک سیاسی جماعت کی جانب سے احتجاجی تحریک چلانے کی باتیں ملک کو ایک بار پھر کئی برس پیچھے دھکیلنے کی کوشش نقصان دہ ہو گی اس وقت ایک ایک لمحہ پوری قوم کو متحد کرنے کا ہے دشمنان پاکستان سازشوں کے جال بن رہے ہیں اور ہمارے پیارے ارض وطن میں افراتفری پھیلانے کیلئے کوشاں ہیں ایسے میں سیاسی عدم استحکام ملک دشمن عناصر کے لیے مفید ثابت ہو گا حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں جب پوری قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ ہوئی تو دشمن کو معلوم ہو گیا کہ پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار ہے اور اس کا مظاہرہ ہمارے شاہینوں نے 9اور دس مئی کی درمیانی شب ایک مختصر مگر شدید تصادم میں بھارت کے خلاف تاریخی اور شاندار فتح حاصل کی یہ فتح ایک قومی کامیابی نہیں بلکہ بحیثیت قوم ہمارے اجتماعی ایمان’ اتحاد اور لچک کا ایک طاقتور ثبوت ہے کیا ہم نے مقصد حاصل کر لیا ہے اس جنگ نے ہماری مسلح افواج کی بے مثال جرأت اور سماجی سیاسی اور نسلی تقسیم سے بالاتر ہو کر پوری پاکستانی قوم کی غیر متزلزل حمایت کا ثبوت دیا ہے جو کاروباری راہنمائوں سے لیکر مزدوروں’ سرکاری ملازمین سے لیکر شہریوں سے لیکر اپوزیشن جماعتوں تک بے مثال اتحاد کا مظاہرہ تھا بلوچستان اور دیگر صوبوں کی سیاسی جماعتیں بھی ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی تھیں قوم کے ایک ہونے سے پاکستان نے دشمن کے دانت کھٹے کر دیئے اور ہماری مسلح افواج نے ثابت کر دکھایا کہ پاکستان سخت ترین دشمنوں کا بھی مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے قوم نے دیکھ لیا کہ اتحاد کیا حاصل کر سکتا ہے تو لازم ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز حکومت اپوزیشن فوج عوام کے تمام طبقات اور عدلیہ اس رفتار کا فائدہ اٹھا کر سیاسی دراڑیں دور کریں اور ایک نئی تخلیق کریں لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ افواج کے ساتھ عوام کو دور کرنا دشمن کا ایجنڈا ہے یہ وقت مفاہمت کا ہے اور کسی بھی اپوزیشن جماعت کو ملک میں احتجاج کرنے سے گریز کرنا چاہیے احتجاجی تحریک چلانے والوں کو سیاسی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی قیادت سے مذاکرات کی راہ اپنانی چاہیے کیونکہ اس وقت ملک میں سیاسی استحکام کی سب سے زیادہ ضرورت ہے نہ کہ احتجاج کی! پاکستان کا دشمن تاک میں ہے اور اپنی ذلت کو کامیابی میں بدلنے کا موقع تلاش کر رہا ہے یہ وہ لمحہ ہے جو حکمت کا مطالبہ کرتا ہے یہ وقت سیاسی مخالفین کو دبائو میں لانے کا وقت نہیں جمہوری تسلسل کیلئے پی ٹی آئی کو موجودہ حکومت کے مینڈیٹ کا احترام کرنا ہو گا اور احتجاج یا ایجی ٹیشن کا سہارا لئے بغیر اپنی آئینی مدت پوری کرنے کی اجازت دینی چاہیے پی ٹی آئی کو مفاہمت’ رواداری اور مشترکہ قومی مفاد پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک مخلص قومی مکالمے کا آغاز کرنا چاہیے اسٹیبلشمنٹ کے کردار کی حقیقت کو تسلیم کرنا انکی خدمات کو سراہا جانا چاہیے، تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ سیاسی حریفوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوششیں انتقام اور عدم استحکام کے چکروں کو جنم دیتی ہیں پاکستان کو رواداری اور شمولیت کے نئے راستے کی ضرورت ہے اپوزیشن سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کیلئے آگے بڑھے اور احتجاجی تحریک کو سیاسی ہم آہنگی’ معاشی استحکام اور دیرپا امن کی قومی تحریک میں تبدیل کرے اسی میں بہتری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں