خدمت مرکز اراضی سینٹر کرپشن کا گڑھ،عملہ کی لاکھوں کی دیہاڑیاں

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) خدمت مرکز اراضی سنٹر کے عملہ کی کرپشن عروج پر پہنچ گئی’ رجسٹرار دفتروں میں بیٹھنے سے گریزاں’ مبینہ طور پر اپنے کارندوں کے ذریعے رجسٹری کروانے والے شہریوں کو اہل کمیشن کے نام پر مختلف جگہوں پر بلا کر مک مکا کرنے لگے’ عیدالاضحی کی تعطیلات کے دوران بھی خدمت مرکز اراضی سنٹر کا عملہ رجسٹریاں کے کاغذات مکمل کرنے میں مصروف رہا اور شہریوں سے رجسٹری کے عوض منہ مانگی قیمت وصول کرنے لگے۔ ذرائع کے مطابق فیصل آباد کو پراپرٹیز کی رجسٹریشن کیلئے چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ فیصل آباد سٹی’ فیصل آباد صدر’ اربن ون’ اربن ٹو’ سب کے رجسٹرار الگ الگ ہیں ان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ سب رجسٹرار اکثر اوقات آفس میں آتے ہی نہیں اور دن بھر شہری خوار ہوتے رہتے ہیں اور دن بھر انتظار کرنے کے بعد خدمت مرکز اراضی سنٹر کا عملہ اور منشی وغیرہ لوگوں کو کہتے ہیں کہ صاحب دفتر میں نہیں ہیں اور فیلڈ میں گئے ہیں۔ پتہ نہیں کب واپس آئیں گے اور عملہ ان کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ اہل کمشن رجسٹریشن کروا لیں اور سب رجسٹرار آفس کا عملہ’ منشی اور کمپیوٹر آپریٹر کو لیکر کسی خفیہ مقام کبھی ڈی گرائونڈ’ کبھی ڈی ٹائپ کالونی’ کبھی غلام محمد آباد’ گلستان کالونی تو کھی کسی سیاسی بندے کے ڈیرے یا پھر وکیل کے گھر پر رجسٹری کروانے والوں کو بلا کر مک مکا کرتے ہیں اور ایک رجسٹری کے عوض مبینہ طور پر 30 سے 50ہزار روپے اضافی وصول کئے جاتے ہیں اور ان کو کہا جاتا ہے کہ کسی کو بتانا نہیں اور اگر کسی کو بتایا تو رجسٹری نہیں ہونے دینگے۔ ذرائع کے مطابق خدمت مرکز اراضی سنٹر کا عملہ کے عید کے تہوار پر بھی لمبی دیہاڑیاں لگانے میں مصروف رہا اور اپنے افسران کی ملی بھگت سے عملہ نے عید کی چھٹیوں میں بھی مبینہ طور پر کروڑوں روپے غریب عوام کو بلیک میل کر کے ہڑپ کئے ہیں۔ رجسٹری کروانے والوں کے خلاف کوئی چیک اینڈ بیلنس کا نظام موجود نہیں ہے اور عملہ منظور نظر افراد سے نذرانہ وصول کر کے پہلے ٹوکن دیتا ہے اور سسٹم بند ہونے کا کہہ کر شہریوں کو بلاوجہ دن بھر انتظار کی سولی پر لٹکایا جاتا ہے۔ شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف’ ڈی جی محکمہ ریونیو’ کمشنر فیصل آباد مریم خان’ ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ندیم ناصر سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ خدمت مرکز اراضی سنٹر کے رشوت خور کرپٹ عملہ کو فی الفور معطل کیا جائے اور سب رجسٹرار کو دفتری اوقات میں آفس میں موجود رہنے کا پابند کیا جائے جو افسر دفتری اوقات میں آفس میں موجود نہ ہو اسکے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔ کیونکہ سب رجسٹرار کی عدم موجودگی میں شہریوں کو رجسٹری کروانے میں شدید مشکلات اور رشوت دینا پڑتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں