35

بے لگام اسرائیل ایران پر بھی حملہ آور (اداریہ)

اسرائیل نے خطے کا چوہدری بن کر بغیر خوف وخطر امریکی آشیرباد سے ایران پر حملہ کیا، اسے معلوم ہے کہ ایران زیادہ بڑا ردّعمل نہیں دے سکے گا کیونکہ امریکہ ”ابو” ساتھ ہے، یہی کچھ ٹھیک ایک مہینے پہلے انڈیا نے پاکستان کے خلاف کیا تھا، اسے لگتا تھا کہ پاکستان زیادہ ردعمل نہیں دے گا کیونکہ امریکہ انڈیا کے ساتھ تھا جس کا ثبوت ہے کہ جب انڈیا حملے کر رہا تھا ڈرون بھیج رہا تھا کہ امریکہ بار بار کہہ رہا تھا اپنے مسئلے خود دیکھو، اپنے مسئلے خود دیکھو، لیکن پاکستان کی صرف 4گھنٹے کی مار سے امریکہ انڈیا دونوں ایک جگہ آ گئے بس ختم کرو، بس ختم کرو۔ یہ سب ایک مضبوط فوج کی وجہ سے ہی ممکن ہے جو امریکہ اسرائیل انڈیا جیسے دشمن آپ کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ پا رہے ورنہ جو اسرائیل ایران تک آ گیا وہ پڑوس میں پاکستان تک نہیں آسکتا؟ اس وقت کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر پاکستان کی پہچان ہیں… ملکی تاریخ میں ایک جنگجو سپہ سالار پاکستان کو ملا اور ملک کی آرمی کا مورال بلند کیا ہے،، فلسطین کے ہزاروں مسلمانوں کا قاتل اسرائیل اب ایرانی مسلمانوں کے خون کا پیاسا بن گیا ہے جسے روکنے کیلئے عالمی قوتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ورنہ عالمی امن شدید خطرے میں پڑ جائے گا ایران پر صہیونی ملک اسرائیل کی جارحیت کے جواب میں ایران کے بھی اسرائیل پر جوابی حملے وزارت دفاع کے نزدیک آگے کے شعلے اور دھواں’ سائرن بجتے ہی اسرائیلی شہری فضائی حملوں سے بچنے کیلئے لنکرز کی دوڑ پڑے اسرائیلی شہریوں کی چیخ وپکار کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف اہداف پورے ہونے تک آپریشن جاری رہے گا جبکہ اسرائیلی فوج کے سربراہ نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل تنہا جنگ کا سامنا نہیں کر سکتا جس کا مطلب واضح ہے کہ امریکہ اس کی پشت پر ہے عین ممکن ہے کہ امریکہ کے جنگجو اسرائیلی فوجیوں کی صورت میں ایران کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہوں اسرائیل نے ایران کے خلاف آپریشن کو رائزنگ لائن کا نام دیا ہے ایران پر بڑی فضائی حملے کے نتیجے میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ محمد باقری’ پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف حسین سلامی’ سپریم لیڈر آیت اﷲ علی خامنہ ای کے مشیر اور محافظ کمانڈر شمخانی سمیت متعدد فوجی کمانڈرز 6جوہری سائنس دان اور عام شہریوں سمیت 78شہید 329زخمی ہوئے اسرائیل کی جارحیت پر عالمی ممالک کا افسوس امریکی صدر ٹرمپ کی بدمعاشی دیکھئے کہ اس نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے سمجھوتہ نہ کیا تو کچھ نہین بچے گا جو فرعونیت ہے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ تنہا اسرائیل ایران پر حملہ نہیں کر سکتا تھا امریکہ کی آشیرباد سے اسرائیل نے اتنا بڑا اقدام اٹھایا ہے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں بھی اسرائیل کو امریکہ کی معاونت شامل ہے امریکی صدر چاہے جتنا بھی لاتعلقی کا اظہار کریں مگر ایران پر حملے کے پیچھے امریکی ہاتھ دنیا کی نگاہوں سے چھپا نہیں سکتے دو روز قبل امریکی میڈیا نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کر سکتا ہے اسرائیل اور ایران کے درمیان تو کوئی ایسا تنازعہ نہیں جس سے دونوں ممالک میں جنگ کی نوبت آئے ان کے مابین کشیدگی اسرائیل کی غزہ میں جاری بربریت کے باعث پیدا ہوئی اور دونوں نے ایک دوسرے پر میزائل برسائے ایران کے ساتھ اصل کشیدگی تو امریکہ کی ہے جس کی آنکھوں مین مسلسل یہ کانٹا چبھ رہا ہے کہ پاکستان کے بعد ایران بھی ایٹمی قوت نہ بن جائے اسی کانٹے نے امریکہ کو ایران پر عالمی پابندیاں لگوانے کی راہ پر لگایا ہے اور اب بزور طاقت ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کیلئے مذاکرات کر رہا تھا ایران کے سخت جواب کے بعد امریکہ نے اپنے بغل بچہ اسرائیل کی ایران پر چڑھائی کرنے کی ہمت بندھائی جس کا مطلب ایران پر دبائو بڑھانا ہے ایران پر دوسری بار امریکی ایما پر چڑھائی کی گئی ہے جس کا جواب دینا ایران کا حق ہے خطے کی موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ مسلم دنیا کی قیادتیں مصلحتوں کے لبادے اتار کر مسلم امہ کے خلاف امریکہ’ بھارت’ اسرائیل گٹھ جوڑ کا میدان عمل میں اتر کر مقابلہ کریں اور انہیں ویسا ہی منہ توڑ جواب دیں جیسا حال ہی میں پاکستان نے بھارت کو اسکی جارحیت مسلط کرنے کی سازش پر دیا ہے اسرائیل کا ایران پر بڑا حملہ مسلم قیادتوں کی بصیرت کا امتحان ہے اس وقت مسلم ریاستوں کو طاغوتی طاقتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے ورنہ اسلام کے دشمن مسلم دنیا کی مصلحتوں سے فائدہ اٹھا کر مسلم ریاستوں کو ایک ایک کر کے نچوڑتی رہیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں