38

مسلم اُمہ کے متحد ہونے کا وقت (اداریہ)

ایران پر حملہ نیتن یاہو’ مودی ٹرمپ ایجنڈا ہے سب بھیس بدل کر مسلمانوں کو تباہ کرنے پر تُلے ہیں ایک ایسا حملہ جو ایران میں موجود غداروں کی مدد سے کیا گیا جن کی مدد سے پہلے ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر اور حماس اور حزب اﷲ کی قیادت کو ایران میں ہدف بنایا گیا مگر مسلمان نہیں جاگے ایران بھی اکیلا رہا اور مسلمان ممالک سے فاصلے پر رہا ایرانی ملٹری کمزور اور مذہبی قیادت کے زیراثر ہے اور آج ایران پرانی ٹیکنالوجی سے جنگ لڑ رہا ہے اسرائیل کے ایران پر پے درپے حملے ٹرمپ اور نیتن یاہو کی حیوانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے جو طاقت کی رعونیت اور امریکہ اور اسرائیل کا مسلمانوں کے بارے میں حیوانیت کا ہمیشہ کا منصوبہ ہے اور وہ اس کے لیے مدتوں سے عمل پیرا ہیں کبھی افغانستان کبھی عراق کبھی شام کبھی لیبیا’ یمن’ غزہ’ حماس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، امریکی آشیرباد سے اسرائیل فلسطینی مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے یہی نہیں اس نے یمن اور دیگر ملکوں پر حملوں کے بعد ایران کو بھی نشانہ بنایا ہے جس کی کڑیاں امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان سے ملتی ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کو جوہری معاہدہ کرنا ہو گا اس سے قبل کہ کچھ بھی باقی نہ رہے اور ایران کو اس چیز سے بچانا چاہیے یہ اس بات کا اظہار ہے کہ وہ اسرائیل ایران تنازعہ کو ایران پر دبائو ڈالنے کیلئے استعمال کر رہے ہیں کہ وہ نیو کلیئر بم بنانے کی اپنی خواہش کو ختم کر دے مگر ایران نے ایسا کرنے سے انکار کیا اور اس پر جنگ مسلط کر دی گئی جو امریکہ کی بدمعاشی کے مترادف ہے پاکستان کی تمام قومی سیاسی’ دینی قیادتوں منتخب ایوانوں حکومتی عہدیداروں اور پوری قوم نے اسرائیل کے سفاکانہ میزائل حملوں کی مذمت اور سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس اشتعال انگیزی کو خطے کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا ہے اور ایرانی پارلیمنٹ اور عوام کے ساتھ کھڑا ہونے کا اعلان کیا ہے سینیٹ قومی اسمبلی چاروں صوبائی اسمبلیوں میں متفقہ طور پر قراردادیں منظور کی گئیں جن میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ عالمی برادری اڑھائی برس سے اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کا تماشا دیکھ رہی ہے اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہونا اس بات کی نشاندہی ہے کہ عالمی طاقتیں مسلمانوں کے خلاف ہیں امریکہ نے عراق’ شام’ لیبیا کو تباہ کیا اب ایک اور مسلمان ریاست امریکی آشیرباد پر اسرائیل کے ہاتھوں تباہی سے دوجار ہے امریکہ اتنی بڑی فوجی قوت ہونے کے باوجود مغربی ملکوں کو اپنے ساتھ ملا کر مسلمان ملکوں پر دبائو ڈالا ہے مسلمان ریاستیں کسی ایک اسلامی ملک پر صہیونیوں یا امریکہ کا حملہ اپنے اوپر حملہ تصور کیوں نہیں کرتیں اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کی حمایت کرنے والے مسلم ممالک کو بھی دھمکی دی ہے کہ وہ ان ممالک پر بھی حملہ کر سکتا ہے جس کے بعد مسلم امہ کو بیدار ہو جانا چاہیے اور یہ وقت تمام مسلمان ریاستوں کے متحد ہونے کا ہے اتحاد سے ہی مسلمان ریاستیں اپنے وجود کو قائم رکھ سکتی ہیں ورنہ جس طرح عراق’ شام’ لیبیا’ یمن’ مصر کو یہودیوں نصرانیوں نے مسخر کیا ہے اسی طرح دیگر مسلم ریاستوں پر بھی یہ وقت آ سکتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مسلم ریاستیں ایک ہو کر اس بات کا مظاہرہ کریں کہ اگر کسی ایک ملک پر بھی چڑھائی کی گئی تو تمام اسلامی ممالک اس کا بھرپور جواب دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں