محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ میں غیر قانونی بھرتیاں،2ارب15کروڑ کے گھپلے

لاہور (بیوروچیف) محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی مالی سال 21-2021 کی آڈٹ رپورٹ جاری ہوگئی ، آڈٹ رپورٹ نے محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کی کارکردگی کی قلعی کھول دی۔ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ میں غیر قانونی بھرتیوں اور مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا، آڈٹ رپورٹ میں 2ارب 15کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں،بغیر اشتہار اور قواعد کے خلاف کنٹریکٹ، ایڈہاک اور ڈیلی ویجز پر بھرتیاں کی گئیں،سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تقرریاں کی گئیں۔ ملازمین کو پریس میں اشتہار دیے بغیر اور تقرری کی شرائط کے بغیر بھرتی کیا گیا،مجموعی طور پر 2ارب 15کروڑ روپے کی ادائیگیاں خلاف ضابطہ قرار دی گئیں،ڈین آئی پی ایچ لاہور کی جانب سے آڈٹ اعتراضات پر عملدرآمد شروع کیاگیا، رپورٹ کے مطابق غیر قانونی ترقی پانے والے افسر سے تنخواہ کی ریکوری کا آغازکیاگیا،محمد سلیمان کو کم گریڈ میں واپس بھیج کر تنخواہ سے کٹوتی شروع کی گئی،محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2021سے ماہانہ 13ہزار 814روپے کی کٹوتی کی جا رہی ہے،اب تک 4لاکھ 83ہزار 490روپے کی وصولی ہو چکی ہے،آڈٹ سفارشات پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے،محکمہ صحت نے پبلک اکائونٹس کمیٹی سے پیرا کم کرنے کی درخواست کر دی گئی،آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے معاملے کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کیلئے کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں