ایران کی آج پھر اسرائیل پر میزائلوں کی بارش

تہران، مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کا اسرائیل پر میزائل اور ڈرونز سے ایک اور بڑا حملہ، حیفہ ریفائزی کی پیداوار بند کر دی گئی، 3ملازمین ہلاک۔ ایرانی میڈیا کے مطابق آپریشن وعدہ صادق سوم کے تحت تازہ حملے ان مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر بھی کیے گئے ہیں جو اسرائیل کے زیر تسلط ہیں، اسرائیلی جارحیت نے ایران کو مجبور کردیا ہے کہ وہ اپنی قوم اور ملک کے دفاع میں یہ حملے جاری رکھے اور صیہونی مجرموں پر کاری ضرب لگائے۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اسرائیل پرڈرونز اور میزائل سے حملہ کیا ہے، یہ ایران کا اسرائیل پر نواں حملہ ہے، وعدہ صادق تھری کے ذریعے بے گناہوں کا بدلہ لیا جارہا ہے۔ترجمان جنرل علی محمد نے کہا کہ آپریشن وعدہ صادق سوم کی یہ 9ویں لہر ہے ، ہم دشمن کو ایک لمحہ کے لیے بھی امن میسر نہیں ہونے دیں گے۔ایرانی سیکیورٹی کونسل نے کہا ہے کہ آج چوتھا دن انتہائی خطرناک ہوگا اور اسرائیل کو رات کے وقت دن کا منظر دکھائی دے گا۔ایران کی پاسداران انقلاب نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اسرائیلی شہری تل ابیب سے نکل جائیں کیوں کہ وہاں بڑا حملہ کرنے والے ہیں، ہمارا ہدف عسکری تنصیبات اور حکومتی مراکز کو نشانہ بنانا ہے، اسرائیلی شہری فوری طور پر دارالحکومت تل ابیب سے نکل کر کسی دوسرے شہر چلے جائیں۔پاسداران انقلاب کے بریگیڈیرجنرل احمد واحدی نیاسرائیل کو خبردار کیا ہیکہ تہران پوری طاقت کے ساتھ طویل جنگ لڑنے کے لیے تیار ہے، ضرورت پڑی تو بہت سا جدید اسلحہ جنگ میں استعمال کیا جائے گا۔ٹرمپ کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی یہ بیان جاری کیا تھا کہ ہمارے طیارے تہران کی فضائوں میں منڈلا رہے ہیں۔ ایرانی شہری دارالحکومت خالی کردیں۔اسرائیل کی جانب سے صبح سویرے ایران پر تازہ ترین حملے کے بعد دارالحکومت تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئی ہیں، اسرائیل نے ایران میں شہری آبادیوں پر حملے کیے، سرکاری ٹی وی اور ہسپتال کو نشانہ بنایا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق دھماکے تہران کے مشرق اور جنوب مشرقی علاقوں میں کیے گئے ہیں جب کہ جنوب مغربی خوزستان صوبے کے شہر اہواز میں بھی کئی دھماکے سنے گئے ہیں۔یہ دھماکے امریکی صدر ٹرمپ کے وارننگ جاری کرنے کے فورا بعد ہوئے ہیں، جس میں انہوں نے شہریوں سے فوری طور پر تہران خالی کرنے کا کہا تھا۔اس سے پہلے اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران سے انخلا کی وارننگ کے بعد ٹی وی چینلز اور ہسپتالوں پر بمباری کر دی۔اسرائیل کی جانب سے مشرقی اور مغربی تہران میں سویلین آبادی پر حملے کیے گئے، صہیونی فورسز کی کارروائیوں میں تہران کی قم ہائی وے، سواہ ہائی وے، کرمان شاہ میں ہسپتال اور الام میں فائر سٹیشن کو نشانہ بنایا گیا تھا، مشرقی اور مغربی تہران میں کئی شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔ایرانی سرکاری ٹی وی پر دوران نشریات حملے پر خاتون اینکر کو فوری سیٹ سے ہٹنا پڑا، خاتون اینکر سحر امامی نے پانچ منٹ بعد دوبارہ سکرین پر آکر نشریات شروع کردیں جبکہ اسرائیلی حملے میں دو ملازم خواتین شہید ہو گئیں، اسی طرح تہران میں ہیلی کاپٹر فیکٹری اور بندر عباس پر بھی حملہ کیا گیا۔اسرائیلی فورسز نے ایران کے ایک تہائی میزائل لانچرز تباہ کرنے اور تہران کی ایئراسپیس پر مکمل کنٹرول کا دعوی کیا تاہم ایران نے اسرائیل کی جانب سے میزائل کے ذخیروں کو نقصان پہنچنے کو مذاق قرار دیا ہے۔ایران کی پاسداران انقلاب کی ائیرواسپیس فورس نے اسرائیل کے خلاف جدید ڈرونز استعمال کرنے کا اعلان کردیا۔پاسداران انقلاب کی ائیرواسپیس فورس کی جانب سے شاہد 107نامی یہ جدید ڈرونز اسرائیلی اہداف پر خودکش حملوں کیلئے استعمال کیے جائیں گے، ان ڈرونز میں ایسا انجن نصب کیا گیا ہے جس کی مدد سے یہ ڈرونز 1500کلومیٹر بلندی پر پرواز کرسکتے ہیں۔107جیسا ہی ایک ڈرون حال ہی میں اسرائیل کے ائیرو تھری ائیر ڈیفنس میزائل نظام کی جانب بڑھتے ہوئے بھی دیکھا گیا تھا۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کو 4روز ہونے کو آئے ہیں جس کے دوران اسرائیل میں 27افراد ہلاک جب کہ ایران میں 225شہادتیں ہوچکی ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایرانی ٹی وی چینل پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں اور میڈیکل عملے کو عالمی قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے۔صحافیوں کی عالمی تنظیم CPJکی جانب سے بھی ایرانی ٹی وی چینل پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی گئی ہے۔، تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں تقریباً 200صحافیوں کے قتل نے اسے خطے کے دیگر مقامات پر میڈیا کو نشانہ کی حوصلہ افزائی کی، یہ خونریزی اب ختم ہونی چاہئے۔دوسری جانب چین میں اسرائیلی سفارتخانہ نے خبردارکیا ہے کہ چینی شہری زمینی بارڈر کراسنگ کے ذریعے اسرائیل سے جلد نکل جائیں،چین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال تشویشناک ہے،چینی شہری اردن کی طرف نکل جائیں۔ امریکا نے اسرائیل ایران جنگ کے دوران مشرق وسطی میں اضافی دفاعی صلاحیتیں تعینات کرنے کا حکم دے دیا۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا نے ملٹری ری فیولنگ جہازوں کی بڑی تعداد مشرق وسطیٰ بھیجی ہے، مشرق وسطیٰ میں امریکی طیارہ برداربحری جہازکی نقل وحرکت بھی ہوئی ہے۔خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ امریکا کی مشرق وسطی تعیناتی میں ری فیولنگ جہاز اور طیارہ بردار جہاز نمٹز شامل ہیں۔امریکی وزیر دفاع کے مطابق امریکی فورسز کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے، اضافی تعیناتی کا مقصد خطے میں ہماری دفاعی پوزیشن کو بڑھانا ہے۔دریں ثناء ۔اسلام آباد(بیوروچیف) پاکستان سمیت21مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی گئی ہے اور اسے یو این چارٹر اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔پاکستان سمیت 21 مسلم ممالک کے وزرائیخارجہ کے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل کی ایران پر حالیہ جارحیت کی سخت مذمت کی گئی ہے۔علامیے میں کہا گیا کہ 13جون سے ایران پر اسرائیلی حملے یو این چارٹر اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔مشترکہ اعلامیے میں علاقائی خودمختاری، سالمیت اور ہمسائیگی کے اصولوں کے احترام پر زور اور مشرق وسطی میں کشیدگی کے خاتمے اور جنگ بندی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ خطرناک کشیدگی سے خطے میں امن واستحکام کو سنگین خطرات لاحق ہیں، ایٹمی و دیگر مہلک ہتھیاروں سے پاک مشرق وسطی کے قیام کی فوری ضرورت ہے۔مشترکہ اعلامیے میں تمام ممالک پر جوہری عدم پھیلا کے معاہدے این پی ٹی میں شمولیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ آئی اے ای اے کی نگرانی میں موجود جوہری تنصیبات پر حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اعلامیے میں ایرانی جوہری پروگرام پر پائیدار معاہدے کے لیے مذاکرات کی بحالی کو واحد راستہ قرا ر دیا گیا جبکہ عالمی آبی گزرگاہوں میں بحری سکیورٹی اور آزاد نیویگیشن کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگرکیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں