حماس اور اسرائیل میں جنگ بندی کا امکان

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹرمپ انتظامیہ اور حماس کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے فلسطینی نژاد امریکی سیاسی کارکن بشارہ بہبہ نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ چند دنوں میں ممکن ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے ثالث بشارہ بہبہ نے مصری اور قطری ثالثوں کے ساتھ مل کر یہ ثالثی کی ہے۔انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد اب غزہ ایک بار پھر خطے کی ترجیح بن چکا ہے، جس سے معاہدے کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔تاہم، ایک سینئر عرب سفارتکار نے سے بات کرتے ہوئے اتنی امید ظاہر نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل بدستور جنگ کے مستقل خاتمے سے متعلق واضح طور پر کوئی وعدہ نہیں کرنے سے انکار کررہا ہے، اسرائیل کی پیشکش یہ ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کو عارضی جنگ بندی کے دوران مرحلہ وار کیا جائے گا۔اگرچہ ثالث بشارہ بہبہ نے واضح کیا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کا اسرائیل اور حماس تنازع سے براہ راست تعلق نہیں ہے، تاہم قطری اور مصری ثالث اب اسرائیل-حماس تنازع کو ختم کرنے کے لیے زیادہ سنجیدہ اور پرعزم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان اختلافات بہت محدود رہ گئے ہیں اور اصل اختلاف صرف ایک بات پر رہ گیا ہے ، جو غالبا اس شق سے متعلق ہے کہ عارضی جنگ بندی کے اختتام پر اگر مستقل جنگ بندی پر اتفاق نہ ہوا تو کیا اسے خود بخود توسیع ملے گی یا نہیں، جیسا کہ حماس مطالبہ کر رہی ہے۔یہ انٹرویو مصر میں ریکارڈ کیا گیا اور بشارہ بہبہ فی الحال مذاکرات کی پیشرفت کے حوالے سے وہی موجود ہیں، اس دوارن انہوں نے حماس کے سینئر رہنما غازی حمد سے ملاقات کی تاکہ باقی اختلافات پر بات چیت کی جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق کئی تجاویز زیر غور ہیں جن میں کچھ مکمل اور کچھ جزوی نوعیت کی ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی لائی جائے، کیونکہ گزشتہ ماہ کے دوران اسرائیل روزانہ اوسطاً صرف 60ٹرک داخل ہونے دے رہا ہے جو کہ اقوام متحدہ کے مطابق ضرورت سے کہیں کم ہے۔دریں ثناء ۔غزہ(مانیٹرنگ ڈیسک) جنوبی غزہ میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 7اسرائیلی فوجیوں کو جہنم واصل کر دیا’برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے بتایا کہ جنوبی غزہ کی پٹی میں جھڑپ کے دوران اس کے پلاٹون کمانڈر سمیت 7اہلکار ہلاک ہو گئے۔فوج کے بیان کے مطابق ایک علیحدہ واقعے میں جنوبی غزہ ہی میں ایک اور اسرائیلی فوجی شدید زخمی بھی ہوا ہے۔اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ ساتوں فوجی خان یونس شہر میں اس وقت مارے گئے جب ان کی گاڑی کے نیچے نصب ایک دھماکا خیز مواد پھٹ گیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں آگ لگ گئی۔اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق جون کے آغاز سے اب تک غزہ میں لڑائی کے دوران 19اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں۔ترک نشریاتی ادارے انادولو کی جانب سے رواں ماہ شائع کی گئی اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر فوجی افسر نے بتایا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے آغاز سے اب تک 10ہزار سے زائد اسرائیلی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں اہلکار ایسے بھی ہیں جو بار بار ذہنی صدمے میں مبتلا ہو رہے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023سے جاری غزہ جنگ میں 861اسرائیلی فوجی ہلاک اور 5ہزار 921زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم فوجی افسر کی طرف سے دی گئی مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، جو کہ اسرائیلی فوجی نظام پر گہرے اثرات کی نشاندہی کرتی ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی جاری ہے، گزشتہ روز کم از کم 86فلسطینی شہید کیے گئے، خوراک کے متلاشی 27فلسطینیوں کو رفح میں اسرائیلی فوجیوں نے گولیاں مار کر قتل کیا۔ادھر اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف نے کہا ہے کہ کہ ایران کے خلاف جاری مہم کا ایک اہم باب مکمل ہو چکا ہے لیکن یہ مہم ابھی ختم نہیں ہوئی۔اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ایال زمیر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کا اگلا ہدف اب دوبارہ غزہ میں کارروائی کرنا ہے تاکہ اسرائیلی یرغمالیوں کو واپس لایا جاسکے اور حماس کی حکمرانی کو ختم کیا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں