117

بھارت خطے کا سب سے بڑا دہشت گرد قرار (اداریہ)

چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ملک کی ترقی اور کامیابی کیلئے عوام’ حکومت اور افواج کے درمیان مضبوط تعلق ناگزیر ہے، خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست ہندوستان ہے، ہم ہندوستان کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان نے نہ پہلے ہندوستان کی اجارہ داری قبول کی اور نہ کبھی کرے گا، جمعہ کو آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے 52ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے افسران سے خطاب کیا، انہوں نے کہا کہ افغانستان سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں تاہم ان سے ایک ہی تقاضا کرتے ہیں کہ وہ ہندوستان کی دہشت گردانہ پراکسیوں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کو جگہ نہ دیں انہوں نے کہا کہ اپنی انفرادی اور علاقائی پہچان سے بڑھ کر پاکستانیت کی پہچان اپنائیں، ہر نظام مین مسائل اور کمزوریاں ہوتی ہیں آپ کا کام ہے کہ کمزوریوں اور منفی قوتوں کو نظام پر حاوی نہ ہونے دیں، جو اقوام اپنی تاریخ کو بھول جاتی ہیں ان کا مستقبل بھی تاریک ہو جاتا ہے، ملک سے محبت اور وفاداری اولین اور بنیادی شرط ہے فیلڈ مارشل کا کہنا ہے کہ ریاست کی تمام اکائیوں کے درمیان ہم آہنگی کی اساس پاکستان کی انتظامیہ اور سول بیوروکریسی ہے، اس کی بھاری اور اہم ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے، معرکہ حق میں ریاست کی تمام اکائیوں نے مثالی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا، معرکہ حق میں پاکستان نے کشمیر لائن آف کنٹرول سے لیکر ساحل سمندر تک انڈیا کی بلاجواز جارحیت کے خلاف بہترین جواب دیا، اﷲ نے معرکہ حق میں ہماری مدد کی کیونکہ ہم حق پر تھے دہشت گردی کی ہندوستان کا اندرونی مسئلہ ہے جو اس کا اپنی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر متعصبانہ اور ظالمانہ رویوں کا نتیجہ ہے، بحیثیت قوم ہم پاکستانی کبھی بھی ہندوستان کے آگے جھکے ہیں اور نہ جھکیں گے،، 52 ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے افسران سے خطاب کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ پر زور اور قومی سلامتی’ داخلی وخارجی چیلنجز پر گفتگو کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو واضح پیغام دیا کہ اجارہ داری قبول نہیں کریں گے چیف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اس پیغام کے بعد بھارت کو سمجھ جانا چاہیے کہ افواج پاکستان دور حاضر کے جنگی تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ہمہ وقت تیار رکھتی ہیں اور کسی بھی جارحیت سے نمٹنا جانتی ہیں فیلڈ مارشل نے افغانستان سے کہا ہے کہ وہ ہندوستان کی دہشت گردانہ پراکسیوں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج اپنی سرزمین میں جگہ نہ دیں،، واقعی موجودہ حالات کے مطابق افغانستان کو اپنی سرزمین دہشت گرد اور کالعدم تنظیموں کو استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیے افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے اور پاکستان نے افغان مہاجرین کی میزبانی کر کے ان کو عزت احترام دیا اس کا افغانیوں کو پاس رکھنا چاہیے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے چاہئیں جبکہ بھارت کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے خطے میں امن واستحکام کا تقاضا ہے کہ افغانستان برادر اسلامی ملک پاکستان کا ساتھ دے جبکہ بھارت کو مشورہ ہے کہ وہ ایک اچھے ہمسائے کا کردار ادا کرے اور خطے میں دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے کے بجائے قیام امن کیلئے مثبت کردار ادا کرے بھارت نے پاکستان پر جارحیت کر کے اس کا انجام دیکھ لیا ہے اب اس کو اپنی سازشوں سے باز آ جانا چاہیے اسی میں اس کی بھلائی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں