140

افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع پر غور (اداریہ)

حکومت کی جانب سے پروف آف رجسٹریشن کارڈ کے حامل افغان مہاجرین کے قیام میں 3سے 6ماہ کی توسیع پر غور کیا جا رہا ہے تاہم پی او کارڈ کے حامل افغان مہاجرین کے قیام میں 6ماہ توسیع پر اتفاق رائے ہونے کے بعد یہ تجویز کابینہ کو بھیجی جائے گی پی او کارڈ رکھنے والے مہاجرین کے حوالے سے یہ تجویز اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پیش کی گئی جس میں وزارت سیفران’ وزارت خارجہ وزارت داخلہ اور سکیورٹی اداروں کے حکام شریک ہوئے اجلاس میں پی او آر کارڈ کے حامل افغان مہاجرین کے قیام میں 3سے6ماہ توسیع پر غور کیا گیا ایسے افغان شہری بھی موجود ہیں جو پاکستان میں پیدا ہوئے ، پی او کارڈ ہولڈرز کے کاروبار اور جائیدادیں پاکستان میں موجود ہیں پراپرٹیز بیچنے اور کاروبار سمیٹنے کے لئے وقت درکار ہے واضح رہے کہ رواں سال پاکستان سے افغان مہاجرین کی بڑی تعداد کو افغانستان واپس بھیجا گیا ہے اس کے علاوہ ایران سے بھی افغان شہریوں کی بڑی تعداد کابل پہنچی ہے حال ہی میں چین میں پاکستان’ افغانستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات کے بعد پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے افغانستان کی حکومت نے پاکستان سے افغان مہاجرین کی بے دخلی کے لیے کچھ مہلت دینے کی اپیل کی تھی 20مارچ 2025ء کو افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان سمیت دیگر ممالک سے افغان مہاجرین کی بتدریج واپسی پر زور دیتے ہوئے کہا تھا تھا کہ ہمیں پورے ملک میں سکیورٹی کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے لیکن کچھ مسائل ایسے ہیں جن کی وجہ سے پناہ گزینوں کی ایک ہی وقت میں آمد کے لیے تیاری کرنا مشکل ہو گا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ایک طویل عرصہ تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور اب تک کر رہا ہے کیونکہ ابھی تک پاکستان سے افغان مہاجرین کا مکمل طور پر انخلا نہیں ہو سکا افغان مہاجرین جن کو عارضی بنیادوں پر پاکستان نے پناہ دی تھی مگر افغان مہاجرین اپنی خیمہ بستیوں سے نکل کر شہروں میں آباد ہونا شروع ہو گئے یہاں پر کاروبار شروع کر دیا جائیدادیں بنائیں حتیٰ کہ یہاں کے رہنے والوں کو آنکھیں بھی دکھانے لگے سمگلنگ کے دھندے میں ملوث رہے افغان مہاجرین نے پاکستان میں رہ کر پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشیں بھی کیں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں نے منشیات اور اسلحہ کا کاروبار شروع کر دیا جس کی وجہ سے پاکستان میں اسلحہ عام اور منشیات کی دستیابی آسان ہوئی، غیر قانونی افغان باشندوں نے دنگا فساد بھی شروع کر دیا جبکہ بھارت کی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گرد تنظیموں کی سہولت کاری بھی شروع کر دی جس کے بعد انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹ پر افغان مہاجرین اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف ایکشن لیا گیا اور ان کو ملک سے بے دخل کرنے پر عملدرآمد شروع کیا گیا تاہم ابھی بھی پاکستان میں افغان مہاجرین کی بڑی تعداد آباد ہے ان کو افغانستان واپس بھیجنے کیلئے حکومتی کوششیں جاری ہیں پتہ چلا ہے کہ ان افغان مہاجرین کو جن کے پاس پروف آف رجسٹریشن کارڈ موجود ہیں ان کو اپنے وطن واپسی کیلئے ضروری امور نمٹانے یعنی جائیدادیں فروخت کرنے اور کاروباری سمیٹنے کیلئے مہلت درکار ہے لہٰذا اس حوالے سے حکومت افغان مہاجرین کے قیام میں 3سے 6ماہ کی توسیع پر غور کر رہی ہے تاہم یہ معاملہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے مشروط ہے اگر کابینہ نے اس کی اجازت دی تو توسیع ہو سکے گی،، حکومت اس حوالے سے کیا فیصلہ کرتی ہے اس بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل ازوقت ہو گا لیکن ہمارے خیال میں پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو مزید مہلت نہیں دی جانی چاہیے کیونکہ یہ ڈنک مارنے والی قوم ہے اسے جتنی جلدی ممکن ہو سکے نجات حاصل کر لینا ہی بہتر ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں