اندھیر نگری چوپٹ راج،کپڑوں،جوتوں،گارمنٹس ،کتابوں کی منہ مانگی قیمتیں وصول

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) فیصل آباد میں اندھیر نگری چوپٹ کا راج، کپڑوں’ جوتوں’ گارمنٹس’ کاسمیٹکس’ سٹیشنری’ کتابوں’ کاپیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ’ دکاندار منہ مانگی قیمتیں وصول کرنے لگے، کوئی پوچھنے والا نہیں’ ان کی قیمتوں کا چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے لگے’ شہری حلقوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ اشیاء کی خرید وفروخت کیلئے کوئی چیک کرنے کیلئے میکنزم بنایا جائے تاکہ مہنگائی کرنے والے قانون کے شکنجے میں آسکیں۔ تفصیل کے مطابق حکومت پنجاب نے ادویات کی قیمتوں کے تعین کیلئے عملہ ریگولیٹ اتھارٹی بنا رکھی ہے۔ اشیاء خوردونوش کی جانچ پڑتال کیلئے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پھل’ سبزیوں’ نان’ روٹی’ گوشت’ پولٹری کی ریٹ لسٹ جاری کی جاتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جاری ہونیوالی ریٹ لسٹ پر عملدرآمد نہیں ہو رہا اور پھل’ سبزی فروش’ قصائی’ نان بائی منہ مانگی قیمتیں وصول کر رہے ہیں تاہم پرائس کنٹرول مجسٹریٹ مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کے خلاف کبھی کبھار کارروائی کر کے کاغذی کارروائیاں کرتے ہیں۔ تاہم کپڑے گارمنٹس’ جوتوں’ کاپیوں’ سٹیشنری اور کاسمیٹکس کی قیمتوں کا کوئی تعین نہیں ہے۔ کپڑے کے تاجر مختلف ورائٹیاں دکھا کر دکاندار اپنی من مرضی کے ریٹ وصول کرتا ہے۔ جوتوں کی قیمتیں کا بھی کوئی میکنزم نہ ہے۔ ہر دکاندار جوتوں کی اپنی اپنی قیمتیں لگا کر شہری کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔ مختلف کمپنیاں برانڈ کے نام پر اپنی مرضی کے دام وصول کرنے میں سرگرم ہیں۔ گارمنٹس والے تاجر برانڈ کے نام پر من مرضی کے ریٹ وصول کر رہے ہیں۔ سٹیشنری’ کاپیوں اور دیگر اشیاء کی قیمتوں کا کوئی تعین نہیں کیا گیا ہے، ہینڈبیگز کی بھی من مرضی کی قیمتیں لگا کر مہنگائی میں اضافہ کر رہے ہیں۔ خواتین کے استعمال کی کاسمیٹکس کی اشیاء کی قیمتیں مقررہ کرنے کا کوئی بھی قانون موجود نہیں ہے۔ مختلف کمپنیاں اپنی من مرضی کے ریٹ وصول کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف’ ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ جوتوں’ کپڑوں’ گارمنٹس’ سٹیشنری اور کاسمیٹکس کی قیمتوں کے تعین کرنے کیلئے قانون سازی کی جائے اور ضابطہ کیا جائے تاکہ شہریوں کو مہنگائی کے دور میں ریلیف مل سکے اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی ڈیوٹیاں لگائی جائیں کہ مذکورہ تاجروں کی قیمتوں کو چیک کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں