ریاست کیخلاف مسلح کارروائی اور انتشار کی تمام صورتیں حرام ہیں

سمندری (بیورو چیف) پیغام پاکستان کی روشنی میں اسلامی نظریاتی کونسل میں مرتب ہونے والے ضابطہء اخلاق محرم الحرام 1447 ہجری پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔ انتہاء پسندی، فرقہ واریت اور تشدد کو فروغ دینے والوں کا خود محاسبہ کریں گے۔ تمام مکاتب فکر اپنے مسلک اور عقائد پر رہتے ہوئے کسی بھی مقدس شخصیات یا فرقے کے خلاف نفرت انگیزی اور اہانت پر مبنی جملوں اور الزامات لگانے سے گریز کریں۔ صوبائی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات و نشریات مرکزی علماء کونسل پنجاب مولانا محمد عامر اشرف، سیکرٹری جنرل سمندری مولانا معاویہ حسن، نائب صدر مولانا محمد عمران، ڈپٹی سیکرٹری قاری زبیر لطیف، قاری عثمان طاہر، حافظ خلیل احمد ایڈووکیٹ، حافظ محمد عبداللّٰہ ودیگر نے شہادت فاروق و حسین سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کے نام پر جبر کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح کاروائی اور انتشار کی تمام صورتیں حرام اور شریعت کی رو کے خلاف ہیں۔ کسی بھی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ حکومتی مسلح افواج و دیگر سیکورٹی کے اداروں کے خلاف نفرت انگزیزی کریں۔ محرم الحرام میں علماء اور مشائخ اور زندگی کے ہر شعبے سے متعلقہ افراد کو چاہئے کہ وہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں اورحکومت کیساتھ تعاون کریں۔کوئی شخص فرقہ وارانہ نفرت، متنازع لٹریچر اور جبراً اپنے نظریات کسی دوسرے پر مسلط نہ کرے کیونکہ یہ شریعت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں