47

خلیجی ممالک کیلئے گوادر سے فیری سروس شروع کرنیکا اعلان (اداریہ)

پاکستان نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک کیلئے فیری سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ پاکستان کی وزارت بحری امور کی جانب سے گوادر کی بندرگاہ پر نئی شپنگ لائنیں قائم کرنے اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے لیے فری سروس متعارف کرانے کیلئے ایک جامع منصوبے کا اعلان کیا گیا ہے یہ فیصلے وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کی زیرصدارت گزشتہ روز ایک اجلاس کے بعد جاری کئے گئے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد پاکستان کی سمندری تجارت کو بڑھانے اور گوادر کو بحیرہ عرب میں ایک بڑے ٹرانس شپمینٹ اور لاجسٹک مرکز کے طور پر ترقی دینے کی وسیع حکمت عملی کا بھی حصہ ہے۔ وزیر بحری امور نے کہا کہ گوادر سے مال برداری میں نمایاں اضافہ متوقع ہے بندرگاہ کو تجارتی مرکز بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا وزیر بحری امور کے مطابق فری سروس سے سمندری سفر آسان اور سستا ہو جائے گا اور ساتھ ہی خلیجی ممالک کے ساتھ عوامی رابطے بھی مضبوط ہوں گے ”فیری سروس” سے بلوچستان میں روزگار اور سرمایہ کاری بڑھے گی اور نئی شپنگ لائنز سے بندرگاہوں پر دبائو کم ہو گا ان کا کہنا تھا کہ میری ٹائم شعبے میں ترقی قومی معیشت کو تقویت دے گی جبکہ نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے اقدامات بھی جاری ہیں،، بالآخر وہ موقع آن پہنچا جس کا بڑی شدت سے انتظار تھا گوادر کی بندرگاہ کی تعمیر سے لیکر اس کو فعال بنانے تک کا سفر بڑا طویل اور صبر آزما تھا اﷲ کی مدد سے آج گوادر کی بندرگاہ ملک کی معاشی خوشحالی کیلئے کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے پاکستان کی وزارت بحری امور کے وزیر کی زیرصدارت منعقدہ اجلاس میں خلیجی ممالک کیلئے گوادر سے فری سروس شروع کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے جو بہت بڑی خوشخبری ہے یہ سروس خلیج تعاون کونسل کے ممالک کیلئے ہو گی جس کے ذریعے خلیجی ممالک کے ساتھ رابطے مزید مضبوط اور فعال بنانے میں مدد ملے گی بلاشبہ خلیجی ممالک کا پاکستان سے تجارتی تعاون مثالی ہے اور آئندہ بھی رہے گا تاہم گوادر سے فری سروس شروع کرنے سے پاکستان اور خلیجی ممالک کیلئے مزید آسانیاں پیدا ہوں گی فیری سروس فضائی سروس کی نسبت سستی ہے اور خلیجی ممالک کے چھوٹے کاروباری اور تجارتی ادارے بھی اس سروس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے پاکستان کو اﷲ تعالیٰ نے بے شمار معدنی ذخائر سے نوازا ہے جبکہ گوادر کی بندرگاہ سب سے زیادہ کارآمد ثابت ہو گی کیونکہ یہاں سے دنیا بھر کے ممالک کو تجارتی سامان منگوانے اور بھیجنے کی سہولت حاصل ہو گی گوادر کی بندرگاہ دنیا بھر میں گہرے پانیوں والے سمندروں میں سے ایک ہے بڑے جہاز بھی لنگرانداز ہو سکیں گے جبکہ تجارتی سامان لانے لیجانے کیلئے سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں فی الحال خلیجی ممالک کیلئے فری سروس کا آغاز ہونے جا رہا ہے انشاء اﷲ مستقبل قریب میں یہ بندرگاہ بہت بڑا عالمی تجارتی مرکز بنے گا اور پاکستان کو معاشی لحاظ سے دنیا کی ابھرتی ہوئی معاشی قوت بنانے میں مددگار ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں