60

احتجاج یا مذاکرات PTI فیصلہ نہ کر سکی (اداریہ)

تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں احتجاج یا مذاکرات کے معاملے پر اختلافات پایا گیا راہنمائوں نے کھل کر حکومت سے مذاکرات’ احتجاج اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے متعلق رائے کا اظہار کیا اجلاس میں سینئر راہنمائوں کے خط پر بحث کی گئی وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور پر تنقید اور علیمہ کی سیاست میں مداخلت کی مخالفت کی گئی، علی محمد خان نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کو غدار غدار کہہ کر خود تباہی کر رہے ہیں، بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کی حمایت کی سلمان اکرم راجہ نے عمران خان کی بہنوں کو جذباتی قرار دے دیا، علی امین گنڈاپور نے کہا کہ کے پی حکومت گرائی تو سیاست چھوڑ دوں گا، زرتاج گل نے کہا کہ کل بانی پی ٹی آئی نے احتجاج کا کہا ہے ہمیں سوچنا ہو گا، حکومت بہت مضبوط ہو چکی ہے پی ٹی آئی کے ارکان کو نہ صرف نااہل نہیں کیا جا رہا بلکہ دس دس سال کی سزائیں بھی ہیں، جنید اکبر نے کہا کہ اختلافات اپنی جگہ لیکن بانی کی بات پر ہم اکٹھے ہیں، علی محمد خان نے ماضی میں ہونے والے پارٹی کے احتجاج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کی کوششوں سے ہی پارٹی مضبوط ہوئی لیکن بانی کی بات پر ہم اکٹھے ہیں علی محمد خان نے ماضی میں ہونے والے پارٹی کے احتجاج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کی کوششوں سے ہی پارٹی مضبوط ہوئی پنجاب نکلے گا تب ہی عمران خان رہا ہوں گے انہوں نے حکومت سے مذاکرات کی حمایت کی اور کہا کہ عمران خان کو مذاکرات پر آمادہ کیا جائے گا بانی پارٹی کی بہن ہمشیرہ علیمہ خان اور پارٹی ارکان کے جو بیانات آ رہے ہیں اس سے پارٹی میں اختلافات واضح ہو رہے ہیں اس موقع پر شاہد خٹک نے کہا کہ ہمیں بتایا جائے کہ ہماری پارٹی کے فیصلے کون کر رہا ہے، ایک دوسرے کو غدار کہنے کے بجائے بانی پی ٹی آئی کو جیل سے نکالنے کی کوشش اولین ترجیح ہونی چاہیے بعض راہنمائوں نے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرنے پر اصرار کیا چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت تلے ہم سب ایک ہیں یہ تاثر غلط ہے کہ ہم مذاکرات نہیں چاہتے ہم نے ہمیشہ کہا کہ بات چیت ہونی چاہیے ہماری طرف سے دیر نہین عمران خان جیسے کہیں گے ویسے آگے بڑھیں گے،، اسلام آباد میں پی ٹی آئی راہنمائوں کے اجلاس میں پارٹی راہنمائوں میں اختلافات واضح طور پر نظر آئے بعض راہنما اسٹیبلٍشمنٹ سے مذاکرات کے حامی ہیں جبکہ کچھ نے حکومت سے مذاکرات کی حمائت کی جس سے ظاہر ہوا کہ پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کیلئے کوئی واضح فیصلہ کرنے میں ناکام رہی ہے اگر سب ایک ہوتے تو یا احتجاج اور یا پھر مذاکرات کا فیصلہ ہو جاتا مگر اجلاس بے نتیجہ رہنا پارٹی میں اختلافات کا پتہ دیتا ہے پی ٹی آئی راہنمائوں میں اختلافات سے انکی پارٹی کی جڑیں آہستہ آہستہ کھوکھلی ہو رہی ہیں اور پارٹی کے بعض راہنمائوں نے حکومتی چھتری تلے آنے کی کوشش بھی شروع کر دی ہیں جو پارٹی کی موجودہ قیادت کیلئے امتحان سے کم نہیں،، کوئی مانے یا نہ مانے تحریک انصاف کی عوام میں پہلے جیسی مقبولیت نہیں رہی عین ممکن ہے جتنی مقبولیت باقی ہے وہ بھی جاتی رہے اس حوالے سے پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کو پارٹی میں پائی جانے والی اختلافات پر نظر رکھتے ہوئے سب کو ساتھ لیکر چلنا ہو گا بصورت دیگر اس جماعت کے ساتھ بھی وہی ہو گا جو ق لیگ اور پی پی پی کے ساتھ ہوا…

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں