تحسین اعوان کے ڈیرہ پر FIAکا حساس ادارے کے ہمراہ چھاپہ

فیصل آباد(وقائع نگار خصوصی)سابق چیئرمین فیسکو ملک تحسین اعوان کے ڈیرے پر حساس ادارے اور FIAسائبر کرائم ونگ کا کامیاب چھاپہ’133کے لگ بھگ ملکی و غیر ملکی افراد پکڑے گئے۔ جن میں43چائنیز باقی پاکستانی شامل’ موقع سے درجنوں کمپیوٹرز’لیپ ٹاپ ‘ مختلف ڈیوائسز’ ایل سی ڈیز ودیگر دستاویزات برآمد’تفصیلات کے مطابق تھانہ بلوچنی کی حدود میں واقع گائوں54ر ب سریالی کے مقام پر ایک بڑی کارروائی میں حساس اداروں اور ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے سابقہ چیئرمین فیسکو اور معروف سیاسی و سماجی کاروباری شخصیت ملک تحسین اعوان کے ڈیرے پر چھاپہ مارا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں 133سے زائد ملکی و غیر ملکی افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جنہیںپولیس کی بڑی گاڑیوں میں ڈال کر ایف آئی اے سائبر کرائم تھانہ لا کر حوالات میں بند کرد یا گیا۔جو مبینہ طور پر آن لائن فراڈ اور غیر قانونی سائبر سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ذرائع کے مطابق چھاپہ انتہائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر مارا گیا اور کارروائی کو اعلیٰ سطحی نگرانی میں مکمل کیا گیا۔ گرفتار افراد کی ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ گروہ مختلف ”آن لائن سکیموں” کے ذریعے عوام کو دھوکہ دیتا تھا، جن میں بین الاقوامی مالیاتی فراڈ، جعلی ویب سائٹس، فیک انویسٹمنٹ پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے ٹریپنگ اور غیر قانونی انسانی سمگلنگ شامل ہے۔غیر ملکی ہیکرز کی موجودگی انتہائی اہم انکشاف یہ سامنے آیا ہے ۔یہ افراد مبینہ طور پر اعلیٰ تکنیکی مہارت رکھتے تھے اور بین الاقوامی سطح پر ڈیجیٹل فراڈ اور سائبر کرائم میں ملوث تھے۔ ان کی شناخت، شہریت اور دیگر تفصیلات پر خفیہ ادارے مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔مزید گرفتاریاں متوقع ‘ذرائع کا کہنا ہے کہ تین مزید مقامات پر بھی کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ایک مربوط سائبر نیٹ ورک تھا، جس کی جڑیں ملک کے دیگر شہروں اور ممکنہ طور پر بیرونِ ملک بھی پھیلی ہوئی ہیں۔ قانونی پہلو اور ریاستی مقفتاحال کسی سرکاری ترجمان یا ادارے کی جانب سے باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ابتدائی شواہد اور تفتیش کی روشنی میں متعدد دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں’ یہ محض مالیاتی جرم نہیں بلکہ قومی سیکیورٹی کا ایک حساس معاملہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے عناصر کا انکشاف اور گرفتاری ریاستی اداروں کی کامیابی ہے، لیکن اس بات کی فوری ضرورت ہے کہ:تحقیقات شفاف اور غیرسیاسی بنیادوں پر کی جائیںمکمل نیٹ ورک کو بے نقاب کر کے عبرتناک مثال بنایا جائے سائبر سیکیورٹی پالیسیز کو اپ ڈیٹ کر کے عالمی معیار پر لایا جائے یہ کارروائی نہ صرف سائبر کرائم کے خلاف ایک بڑی کامیابی ہے بلکہ یہ پیغام بھی ہے کہ ریاست ایسے جرائم پر خاموش تماشائی نہیں بنے گی۔ تحقیقات کا دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی و بین الاقوامی سطح پر اس نیٹ ورک کے اثرات کا جائزہ لینا بھی ناگزیر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں