بچے کے علاج میں غفلت ،MSٹیچنگ ہسپتال غلام محمد آباد اور2خواتین ڈاکٹر قصور وار قرار

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کیپٹن ریٹائرڈ ندیم ناصر نے ڈیوٹی سے غفلت اور مریض کو علاج میں کوتاہی کے الزامات ثابت ہونے پر ٹیچنگ ہسپتال غلام محمد آباد کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور دو خواتین ڈاکٹرز کے خلاف سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب کو محکمانہ کارروائی کرنے کی سفارش کی ہے جن پر الزام ہے کہ غلام محمدآباد کے رہائشی ڈیڑھ سالہ محمد یوسف نامی بچہ ان کی عدم توجہی ، لاپرواہی اور علاج میں کوتاہی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلاگیا جس کے گلے میں سیرپ کی شیشی کا ڈھکن پھنس گیا تھا جسے 19فروری 2025کو ایمرجنسی علاج کے لئے فوری طور پر ٹیچنگ ہسپتال غلام محمد آباد لایا گیا لیکن ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز نے متاثرہ بچے کے لواحقین کو مختلف وارڈ کے بلاوجہ چکر لگوائے اور بعد ازاں اسے الائیڈ ہسپتال ون میں لے جانے کا کہہ دیا اور بچہ اس دوران فوت ہوگیا۔ متوفی بچے کے لواحقین اسکی موت سے غم سے نڈھال ہوگئے اور مذکورہ ہسپتال انتظامیہ کی کوتاہی پر واویلا کرتے رہے۔بچے کے چچا ندیم احمد نے کمشنر فیصل آباد کو ہسپتال انتظامیہ کے خلاف درخواست گزاری تو انہوں نے ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کو انکوائری کرنے کاحکم دیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متاثرہ خاندان اور گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے اور سی سی ٹی و ی فوٹیج ملاحظہ کی ،حالات و واقعات کے مطابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر آصف شہزاد، (پی جی آر)، ڈاکٹر احدا پیام، ویمن میڈیکل آفیسر ڈاکٹر مومنہ سہیل قصور وار پائے گئے جن کے خلاف سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب کو پیڈا ایکٹ کے تحت محکمانہ کارروائی کرنے کی سفارش کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں