110

زرعی پیداوار میں اضافے اور اصلاحات کیلئے اقدامات (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں زرعی پیداوار میں اضافے اور زرعی اصلاحات کیلئے جامع لائحہ عمل طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی شعبے کی پیداوار میں بہتری’ ویلیو ایڈیشن اور زرعی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، زرعی اجناس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے زرعی شعبے کے تحقیقی مراکز کو مزید فعال بنایا جائے، زرعی شعبے کی کارکردگی اور جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس سے خطاب وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین زرعی شعبے کے ماہرین اور متعلقہ اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے اجلاس کو ربیع وخریف کی بڑی فصلوں کی گزشتہ برس پیداوار اور تجاویز پیش کی گئیں اجلاس کو حکومتی اصلاحات کے نفاذ پر پیشرفت اور زراعت پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا زرعی شعبے پر قائم ٹاسک فورس کی طرف سے بریفنگ دی گئی وزیراعظم نے ہدایت کی کہ جدید زرعی مشینری’ معیاری بیج’ فصلوں کی جغرافیائی منصوبہ بندی اور کسانوں کو آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کیلئے اقدامات کا طویل وقلیل مدتی جامع لائحہ عمل پیش کیا جائے زرعی تحقیق مراکز میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت جدید تحقیق کو یقینی بنایا جائے زراعت میں مصنوعی ذہانت اور جدید تحقیق کو یقینی بنایا جائے بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین کی خدمات سے استفادہ کیا جائے زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن سے برآمدی اشیاء کی تیاری کیلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کی زرعی صنعت کی ترقی کے حوالے سے اقدامات کا لائحہ عمل بھی پیش کیا جائے منافع بخش فصلوں کی کاشت اور پاکستان کو غذائی تحفظ کے حوالے سے خود کفیل بنانے کیلئے کسانوں کو ہر قسم کی راہنمائی فراہم کرنے کے اقدامات کئے جائیں کسانوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ تجاویز کیلئے مشاورتی عمل کو یقینی بنایا جائے زرعی شعبے کی ترقی کیلئے صوبائی حکومتوں سے روابط تعاون مزید مربوط بنایا جائے موسمیاتی تبدیلیوں کے مضراثرات سے بچائو کیلئے کلائیمسٹ رز سٹینٹ بیج اور زراعت کے جدید طریقہ کار اپنانے میں کسانوں کی معاونت کی جائے بارشوں اور دیگر موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر نئے موزوں علاقوں بالخصوص سندھ اور بلوچستان میں کپاس کی کاشتکاری کیلئے صوبائی حکومت سے تفصیلی مشاورت کے بعد جامع منصوبہ بندی کی جائے نباتاتی ایندھن کو ملک کے انرجی مکس میں شامل کرنے کیلئے تحقیق اور منصوبہ بندی کی جائے،، وزیراعظم شہباز شریف کا ملک میں زرعی پیداوار میں اضافے اور زرعی اصلاحات کیلئے متحرک ہونا خوش آئند ہے بلاشبہ ملک کو اس وقت زرعی شعبے پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور ایک وقت تھا کہ اجناس کی ایکسپورٹ کر کے پاکستان بھاری زرمبادلہ حاصل کرتا تھا مگر ماضی کی حکومتوں نے اس اہم شعبے پر توجہ کم کر دی کاشتکاروں کو سہولیات کی فراہمی میں کمی ہو گئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ زرعی پیداوار میں بھی کمی ہونے لگی اور آہستہ آہستہ ہمارا ملک زرعی اجناس بیرون ملک برآمد کرنے کے بجائے بیرونی ممالک سے منگوانے پر مجبور ہو گیا جو لمحہ فکریہ ہے موجودہ حکومت نے زرعی شعبے میں اصلاحات اور منافع بخش فصلوں سمیت دیگر اجناس کی پیداوار میں اضافہ کیلئے ماہرین سے جامعہ لائحہ عمل طلب کیا ہے جبکہ اس سلسلے میں اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز بھی مانگی گئیں تھیں جس کا مطلب ہے کہ حکومت زرعی شعبے کی ترقی میں سنجیدہ ہے اور اس سلسلے میں پلان مرتب کیا جا چکا ہے خدا کرے اس میں حکومت کو توقع سے زیادہ کامیابی حاصل ہو اور ہمارا ملک ایک بار پھر اجناس برآمد کرنے والا بن جائے اور زرعی اجناس کی بدولت بھاری زرمبادلہ کمانے کے قابل ہو جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں