70

IMF کو پاکستان میں 2025ء اور اس کے بعد مزید ترقی کی توقع (اداریہ)

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان میں 2025ء اور اس کے بعد مزید ترقی کی توقع ہے عالمی مالیاتی فنڈ کے نمائندے’ ماہر بینیچی نے کہا کہ توسیع فنڈ سے ملک کی کارکردگی مضبوط رہی’ معاشی اور موسمیاتی اصلاحاتی ایجنڈے کی حمائت جاری رکھیں گے ابتدائی پالیسی اقدامات نے بیرونی چیلنجز کے باوجود معاشی استحکام بحال کرنے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد’ دوبارہ قائم کرنے میں مدد دی ہے کاروباری ماحول بہتر’ ٹیکس نظام میں برابری کو مضبوط بنائیں گے نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری کو فروغ دیں’ ریزیلیئن اینڈ سیٹن ایبلٹی فسیلٹی کے ذریعے تعاون موسمیاتی مزاحمت کو مضبوط اور سبز سرمایہ کاری کو متحرک کرے گا سٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ میں آئی ایم کے نمائندے ماہر بینیچی نے اپنے لیکچر میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ خطے اور پاکستان میں بدلتے ہوئے معاشی منظرنامے پر روشنی ڈالی اور پاکستان کی معاشی اور موسمیاتی اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے فنڈ کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا ایس ڈی پی آئی میں ماہرین معیشت’ محققین اور پالیسی ماہرین سے خطاب کرتے ہوئے بینیچی نے کہا مشرق وسطیٰ’ شمالی افریقہ اور پاکستان میں ترقی 2025ء اور اس کے بعد مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی’ جغرافیائی سیاسی تقسیم اور عالمی تعاون کی کمزوری عالمی معاشی منظرنامے پر غیر معمولی غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے جس سے محتاط اور دوراندیش پالیسی اقدامات کی فوری ضرورت اجاگر ہوتی ہے پاکستان پر بات کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے نمائندے نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ایکسٹیننڈ فسیلیٹی (EFF) کے تحت ملک کی کارکردگی اب تک مضبوط رہی ہے انہوں نے مئی 2025ء میں آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پہلے جائزے کی کامیابی تکمیل کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا نمائندے نے مزید کہا کہ ابتدائی پالیسی اقدامات نے بیرونی چیلنجز کے باوجود معاشی استحکام بحال کرنے اور سرمایہ کاروں کا دوبارہ اعتماد بحال کرنے میں مدد دی ہے،، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) کے نمائندے ماہر بینیچی کا پاکستان کی ترقی پر اعتماد خوش آئند ہے آئی ایم ایف کے نمائندے نے ابتدائی پالیسی اقدامات معاشی استحکام سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کیلئے حکومتی کوششوں کا اعتراف کیا ہے جس کا مطلب واضح ہے کہ عالمی مانیٹری فنڈ حکام پاکستان میں کی جانے والی معاشی اور موسمیاتی اصلاحات سے مطمئن ہیں IMF کے نمائندے ماہر بینیچی نے ایک تقریب میں دوران خطاب کہا کہ کاروباری ماحول بہتر ٹیکس نظام میں برابر کو مضبوط بنائیں نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے تو معاشی حالات مزید بہتر بنائے جا سکتے ہیں، موجودہ حکومت کا اس وقت سب سے زیادہ فوکس معاشی استحکام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصان پر ہے دونوں شعبوں میں اصلاحات کی جا رہی ہیں وزیراعظم کی معاشی ٹیم کی کوششوں سے ملکی معیشت کو کافی حد تک سنبھالا مل چکا ہے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت موصولہ رقوم کے باعث بھی مالی صورتحال بہتر جبکہ اوورسیز پاکستانیز کی جانب سے ریکارڈ ترسیلات زر کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا جبکہ ایف بی آر میں بدعنوان افسران کی جگہ اچھے ریکارڈ والے افسران کی تعیناتی اور محصولات میں اضافہ کے اقدامات کے بھی اچھے نتائج سامنے آئے ہیں ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے موجودہ مالی سال میں ٹیکس نیٹ میں مزید اضافہ کیلئے کوشش جاری ہیں امید ہے کہ نئے مالی سال میں حکومت ریونیو کے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی علاوہ ازیں آئی ایم ایف پروگرام سے پاکستان کو مزید قرضہ ملے گا جس کی بدولت ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کے ساتھ ساتھ بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں ممکن ہوں گی حکومت بلوچستان میں موجود معدنی ذخائر سے بھی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے جو خوش آئند ہے علاوہ ازیں گوادر بندرگاہ کے فعال ہونے سے بھی پاکستان کو مالی مشکلات سے نکلنے میں مدد ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں