65

44پی ٹی آئی راہنمائوں کو عدالتوں سے سزا (اداریہ)

سرگودھا اور لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے الگ الگ مقدمات میں پی ٹی آئی کے 44راہنمائوں کو 10،10 سال قید کی سزائیں سنا دیں پی ٹی آئی کے مرکزی راہنما شاہ محمود قریشی سمیت 6ملزمان کو رہا کر دیا گیا پی ٹی آئی نے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا وزیرمملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ عدالتوں نے انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جس سے آئین اور قانون کا بول بالا ہوا، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اﷲ نے بھی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ 9مئی فسانہ نہیں حقیقت ہے، سرگودھا کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 9مئی میانوالی میں ہنگامہ آرائی توڑ پھوڑ اور تھانے کو نذرآتش کرنے کا 100صفحات پر مشتمل تفصیلی جاری کر دیا’ عدالت نے مقدمہ کے 36مجرمان کو دس دس سال سزا کا حکم سنایا پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد خان بچھر کو 10سال قید کی سزا کے ساتھ مختلف دفعات کے تحت 60لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کا بھی حکم سنایا گیا، لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9مئی کو جلائو گھیرائو شرپائو پل کیس کا فیصلہ جاری کر دیا انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پی ٹی آئی راہنما شاہ محمود قریشی کو بری کر دیا اسی کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حمزہ عظیم’ رانا تنویر اور اعزاز رفیق کو بھی مقدمہ سے بری کر دیا، ڈاکٹر یاسمین راشد’ میاں محمود الرشید سمیت دیگر ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی گئی عدالت نے کیس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا، سرگودھا کی خصوصی عدالت کے جج محمد نعیم شیخ کے دستخطوں سے 100صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا گیا فیصلے میں عدالت نے احمد خان بچھر’ احمد چٹھہ سمیت 36ملزمان کو تھانہ موسیٰ خیل میانوالی کے مقدمہ میں الزامات ثابت ہونے پر سزا کا حکم سنایا عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ عدالتی فیصلے کے بعد سزا پانے والے تمام مجرمان کو گرفتار کیا جائے عدالتی فیصلے کے بعد میانوالی پولیس مجرمان کی گرفتاری کیلئے متحرک ہو گئی اس سے قبل عدالت نے مجرمان کوحاضری سے استثنیٰ دے رکھا تھا انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت 9مئی میانوالی کے دیگر 5مقدمات کی سماعت جاری رکھے ہوئے ہے ان مقدمات میں قومی اسمبلی اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان’ صنم جاوید’ عالیہ حمزہ سمیت 300 سے زائد کارکن ملوث ہیں جن پر عدالت پہلے ہی فرد جرم عائد کر چکی ہے، ملک احمد خان بچھر کو سزا سنائے جانے کے بعد ان کی نااہلی اور ڈی سیٹ ہونے کا امکان ہے 9مئی 2023ء کو القادر ٹرسٹ کیس مین عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی راہنمائوں اور کارکنوں کے خلاف جلائو گھیرائو توڑ پھوڑ ہنگامہ آرائی کے مقدمات درج کئے گئے تھے جن کے کیسز عدالتوں میں زیرسماعت تھے پی ٹی آئی کے سینئر راہنما عمر ایوب خان سمیت 70سے زائد ملزم تاحال مفرور ہیں جنہیں عدالت نے اشتہاری قرار دیا تھا 36نامزد جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان سمیت 150سے زائد نامعلوم ملزمان شامل ہیں، عدالت میں 50گواہان شہادتیں قلمبند کی گئیں،، سرگودھا اور لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالتوں سے پی ٹی آئی کے راہنمائوں کو 10،10 سال قید کی سزا سنا دی گئی عدالت میں 9مئی کا کیس 2023ء سے زیرسماعت تھا عدالت نے کیس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا، اس مقدمہ میں دیگر ملزمان کے خلاف بھی سماعت جاری ہے مرکزی راہنما شاہ محمود قریشی اور 3راہنمائوں کو عدالت نے بری کر دیا، 9مئی کو پی ٹی آئی کی طرف سے ملک بھر میں احتجاج توڑ پھوڑ’ ہنگامہ آرائی دفاعی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ شہداء کی یادگاروں کو بھی نقصان پہنچایا گیا جو انتہائی افسوسناک تھا ایسے لوگوں کو آئین اور قانون کے مطابق سزا ملنی ضروری تھی انسداد دہشت گردی عدالتوں کی طرف سے مجرمان کو سزائیں سنانا آئین وقانون کی بالادستی قائم رکھنا ہے جس کو آئینی وقانونی ماہرین سراہتے ہیں ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی قائم رکھنا عدالتوں کی ذمہ داری ہے جو بخوبی نبھا رہی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ 9مئی کیس میں جن راہنمائوں کے خلاف عدالتوں مین سماعت ہو رہی ہے ان کے خلاف بھی جلد فیصلہ سنایا جائے تاکہ ملک میں توڑ پھوڑ کرنے ہنگامہ آرائی میں ملوث ایسے عناصر کو ان کے کئے کی سزا مل سکے یہی وقت کا تقاضا اور آئین وقانون کی بالادستی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں