32

FBR میں جدید ڈیجیٹل ایکوسسٹم کے قیام کی منظوری (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ٹیکس بیس میں اضافے سے عام آدمی کیلئے محصولات میں کمی کا ہدف ممکن ہو گا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر پاکستان بھیجنے کی سہولت اسکیم کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے وزارت خزانہ کو ترجیحی بنیادوں پر ورکرز رمیٹنس انسینٹینو واسکیم کیلئے فوری طور پر فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کی ہے دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایف بی آر میں جدید عالمی معیار کے ڈیجیٹل ایکوسسٹم کی تشکیل کی منظوری دیدی’ یہ منظوری گزشہ روز وزیراعظم نے اپنی زیرصدارت ایف بی آر کی جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس کے دوران دی، وزیراعظم نے ہدایت دی کہ صرف ڈیجیٹائزیشن ہی نہیں نئے نظام کو تقویت دینے کیلئے پورا ڈیجیٹل ایکوسسٹم بنایا جائے، وزیراعظم نے کہا بیرون ملک مقیم پاکستانی ہماری طاقت پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں ان کے خون پسینے کی کمائی ترسیلات زر پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں جسے مجھ سمیت پوری قوم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے وزیراعظم نے کہا مالی سال 2025ء میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے تاریخ کی بلند ترین 38.3 ارب ڈالر کی ترسیلات زر بھیج کر 14برس میں پہلی بار کرنٹ اکائونٹ سرپلس کے ہدف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کیا ان ترسیلات زر سے نہ صرف بڑھتے ہوئے درآمدی بل کی ادائیگی بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے میں بھی معاونت ملی انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم مزدور سے لیکر کاروباری شخصیات’ وطن عزیز ترسیلات زر بھیج کر ملکی تعمیر وترقی میں اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں ترسیلات ز کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور اور اس نظام کو بہتر’ موثر اور سہل بنا رہے ہیں ایف بی آر کی جاری اصلاحات کے ثمرات کی بدولت معیشت مثبت سمت میں گامزن ہے وزیراعظم نے ہدایت دی کہ خام مال کی تیاری ودرآمد’ مصنوعات کی مینوفیکچرنگ اور صارف کی خریداری تک تمام ڈیٹا کو ایک ہی سسٹم سے منسلک کیا جائے نظام کو اس قدر مؤثر بنایا جائے کہ پوری ویلیوچین کی براہ راست ڈیجیٹل نگرانی کی جا سکے ٹیکس بیس میں اضافے اور غیر رسمی معیشت کے خاتمے سے ہی عام آدمی کیلئے ٹیکس میں کمی کے ہدف کا حصول ممکن ہے،، وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ایف بی آر میں جدید اور عالمی معیار کے ڈیجیٹل ایکوسسٹم کی تشکیل کی منظوری اور بیرون ملک متقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر پاکسان بھیجنے کی سہولت اسکیم کو جاری رکھنے کا فیصلہ قابل تعریف ہے بلاشبہ موجودہ حکومت کی ملکی معیشت کے استحکام کیلئے کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوتی نظر آ رہی ہیں وزیراعظم کا ایف بی آر میں اصلاحات کا بڑا مقصد اس ادارے کی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنانا اور محصولات کے اہداف حاصل کرنے کیلئے مؤثر اور ٹھوس اقدامات پر بھرپور توجہ دینا ہے جو درست فیصلہ ہے مالی سال 2025ء میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے تاریخ کی بلند ترین 38.3ارب ڈالر کی ترسیلات زر بھیج کر 14سال میں پہلی بار کرنٹ اکائونٹ سرپلس کے ہدف میں کلیدی کردار ادا کیا جو اوورسیز پاکستانیوں کا موجودہ حکومت پر اعتماد ہے ان کی ارسال کردہ ترسیلات زر سے نہ صرف بڑھتے ہوئے درآمدی بل کی ادائیگی بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے میں بھی معاونت ملی موجودہ حکومت معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے جو اقدامات کر رہی ہے اس کے ثمرات بتدریج سامنے آ رہے ہیں انشاء اﷲ حکومتی پالیسیوں کی بدولت حکومت اپنی مقررہ مدت کے دوران ملک کو معاشی طور پر سنبھالا دینے میں کامیاب ہو جائے گی وزیراعظم شہباز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد قوم سے وعدہ کیا تھا کہ اس بار آئی ایم ایف پروگرام آخری ہو گا، خدا کرے ان کا یہ وعدہ سچ ثابت ہو اور وطن عزیز مالیاتی اداروں کے شکنجے سے بچ نکلے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں