تفتیش کیلئے آئے2گروپوں میں تصادم،تھانہ کھرڑیانوالہ میدان جنگ بن گیا

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) کھرڑیانوالہ پولیس نے رکشہ سٹینڈ کے تنازعہ پر ڈی ایس پی کھرڑیانوالہ آفس پیشی پر آئے دو گروپوں میں تصادم’ ایک دوسرے پر فائرنگ’ تھانہ کھرڑیانوالہ میدان جنگ بن گیا، پولیس کانسٹیبل پر بھی تشدد کرنے کے الزام میں دونوں فریقوں کے 29نامزد اور 75نامعلوم افراد کے خلاف 7ATA سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ تفصیل کے مطابق تھانہ کھرڑیانوالہ کے سب انسپکٹر امتیاز نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے بتایا کہ احمد گروپ اور یاسر گروپ کے مابین رکشہ سٹینڈ کا تنازعہ چل رہا تھا کہ گزشتہ روز ڈی ایس پی کھرڑیانوالہ ریاض الدین نے دونوں فریقوں کو تفتیش کیلئے بلایا تو اچانک دونوں گروپ ایک دوسرے پر گالم گلوچ کرتے ہوئے لڑائی شروع کر دی۔ ڈنڈے اور سوٹوں سے ایک دوسرے پر حملہ کیا اور پھر ان کے دیگر ساتھی مسلح ہو کر آئے اور ایک دوسرے پر فائرنگ کر دی۔ تھانہ میں بھگدڑ مچ گئی۔ تھانہ کا گیٹ اور کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ پولیس نے چھڑانے کی کوشش کی تو انہوں نے کانسٹیبل شاہد اقبال کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اسکی وردی پھاڑ دی۔ تھانہ کھرڑیانوالہ میدان جنگ بن گیا، پولیس کی بھاری نفری کے پہنچنے پر ملزمان ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔ تاہم پولیس نے محمد احمد گروپ کے احمد ولد دلشاد’ احسن تارڑ’ ڈاکٹر ظفر’ ریحان بٹ’ وقار عظیم’ افضل تارڑ’ شاہد اقبال’ مولوی عابد’ شیخ امداد’ عبدالوحید’ سعد بٹ’ عبداﷲ اور یاسر گروپ کے یاسر’ ابوبکر’ رانا عمر’ رانا عثمان’ مزمل’ ظہیر احمد’ اعجاز’ ملک وقار’ عادل’ امتیاز عرف کاکا’ حسیب’ عقیل باجوہ’ ڈاکٹر عباس’ عباس عرف باسا’ ارشاد’ رانا فیصل اور اویس نامزد اور دیگر نامعلوم کے خلاف دہشت گردی ایکٹ سمیت سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تلاش شروع کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں