69

مہنگائی 7ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی (اداریہ)

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کی سالانہ مہنگائی کی شرح جولائی 2025ء میں بڑھ کر 4.07 فی صد ہو کر 7ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جو جون میں 3.2 فی صد تھی اور دسمبر 2024ء کے بعد سے بلند ترین سطح ہے، رہائش ویوٹیلٹیز قیمتوں میں اضافے نے گرانی کو بڑھایا’ خوراک نرخوں میں اضافہ سست رہا۔ شہری علاقوں میں مہنگائی 4.4فی صد دیہی میں 3.5فی صد رہی اسٹیٹ بنک کا گرانی پر انتباہ، گزشتہ سال جولائی میں مہنگائی شرح 11.09 کے مقابلے میں واضح کمی، مگر خدشات برقرار ہیں مہنگائی میں اس تیزی کی بنیادی وجہ رہائش اور یوٹیلیٹی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہے جو جون میں 28فی صد کمی کے بعد جولائی میں 3.56 فی صد بڑھ گئیں اسی طرح ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو اجو پچھلے مہینے 0.6فی صد تھا اور اب 2.7فی صد تک جا پہنچا ہے، تاہم خوراک اور غیر الکوحل مشروبات کی قیمتوں میں اضافے کی سست رفتاری 2.6فی صد سے کم ہو کر 0.9 فی صد اور تفریح وثقافت کے شعبے میں 1.5فی صد کمی نے مجموعی مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جولائی میں کپڑے’ جوتے’ الکوحل مشروبات اور تمباکو’ گھریلو سامان اور مرمت’ صحت’ ریستوران وہوٹل اور متفرق اشیاء وخدمات کی قیمتوں میں بھی نسبتاً کم اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ مہنگائی اس وقت سامنے آئی ہے جب اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے مہنگائی کے بدترین منظرنامے سے خبردار کرتے ہوئے اپنی پالیسی شرح سود کو 11فی صد پر برقرار رکھا ہے بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے کہا ہے کہ خاص طور پر گیس کی قیمتیں توقع سے زیادہ بڑھی ہیں اور حقیقی پالیسی شرح کو مثبت رکھنا ضروری ہے تاکہ مہنگائی کو 5 سے 7فی صد کے ہدف کے اندر رکھا جا سکے، مالی سال 2024-25 میں صارف قیمت اشاریہ 4.49 فی صد رہا جو مالی سال 2023-24 میں 23.41 فی صد تھا، بنیادی مہنگائی جو خوراک اور توانائی جیسی غیر مستحکم اشیاء کو نکال کر ماپی جاتی ہے جولائی میں 7.0 فی صد رہی جو جون میں 6.9فی صد تھی اور جولائی 2024ء کے مقابلے میں 11.7خاصی کم ہے،، سرکاری اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں ایک بار پھر سے مہنگائی اپنے پیر پھیلا رہی ہے جو حکومتی دعوئوں کی قلعی کھولنے کیلئے کافی ہے ماہ جولائی میں مہنگائی کا بڑھ کر 4.07فی صد تک پہنچنا لمحہ فکریہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی مہنگائی گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے چینی کے نرخوں میں کمی کے حکومتی دعوے دم توڑ چکے ہیں وفاقی اور صوبائی حکومتیں ملک میں چینی کی اوسط قیمت سرکاری ریٹ پر لانے میں ناکام ہو گئیں کراچی اور پشاور کے شہری ملک میں سب سے مہنگی چینی خریدنے پر مجبور ہیں وفاقی ادارہ شماریات نے چینی کی قیمتوں کے نئے اعداد وشمار جاری کر دیئے ہیں رپورٹ کے مطابق ملک میں چینی کی اوسط قیمت 179 روپے 33پیسے فی کلو پر آ گئی ہے تاہم زیادہ سے زیادہ قیمت 190 روپے تک فی کلو ہے مگر سرکاری نرخوں پر چینی دستیاب نہیں ہے جو ضلعی انظامیہ کی کمزوری سمجھی جا رہی ہے دوسری جانب چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مبینہ ذخیرہ اندوزی روکنے کیلئے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے پاکستان نے نجی ملوں سے 19لاکھ میٹرک ٹن چینی اپنی تحویل میں لے لی اور 18شوگر مل مالکان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیئے ہیں حکومت کا یہ اقدام اپنی جگہ مگر اس سوال کا جواب کون دے گا کہ یہ بدانتظامی کیسے ہوئی پہلے چینی برآمد کی گئی پھر درآمد کے چرچے ہونے لگے شوگر ملوں کے مالکان اور ان کے خاص کارندے چینی مہنگی کر کے اربوں روپے عوام کی جیبوں سے نکال چکی ہے اس کے باوجود چینی کے نرخ تاحال کم نہ ہو سکے مہنگائی بڑھ رہی ہے ادارہ شماریات اعداد وشمار جاری کر رہا ہے مگر متعلقہ ادارے جن کی ڈیوٹی مہنگائی پر قابو پانا ہے جو خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں عوام مہنگائی کے ہاتھوں عاجز ہے مگر کیا مجال ہے کہ عوام کی مشکلات کا ازالہ کرنے والے نوٹس لینے کی ضرورت محسوس کریں، ہر سال چینی کی قلت ہوتی ہے مگر کسی بھی حکومت نے اس مسئلے کا پیشگی حل کبھی تلاش کرنے کی کوشس نہیں کی ہر سال دعوے کئے جاتے ہیں کہ یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے مگر صورتحال بالکل تبدیل نہیں ہوتی چند ماہ مہنگائی میں کمی آئی مگر اب پھر سے مہنگائی بڑھ رہی ہے جس پر قابو پانے کیلئے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں اگر تاخیر کی گئی تو مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں