94

ایران کی پاکستان کے راستے سے چین سے تجارت کی خواہش (اداریہ)

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پیز شکیان کی پاکستان کے راستے چین سے تجارت کی خواہش ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ایران چین پاکستان راہداری کے ذریعے شاہراہ ریشم سے جُڑ سکتا ہے یہ راستہ ایران سے ہوتے ہوئے یورپ تک جا سکتا ہے ان کا کہنا ہے کہ کوشش ہے کہ دونوں ممالک کی دوطرفہ تجارت 10ارب ڈالر تک پہنچے، پاک چین ون روڈ منصوبے میں فعال شرکت کے خواہاں ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ پاکستان کے موقع پر کیا، ایرانی صدر کا پاکستان پہنچنے پر فقیدالمثال استقبال کیا گیا ڈاکٹر پیز شکیان کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد میں ایرانی وزیر خارجہ سی عباس عراقچی’ سینئر وزراء اور دیگر حکام بھی شامل ہیں ایرانی صدر اپنے پہلے دورہ پاکستان میں لاہور بھی پہنچے جہاں نواز شریف’ مریم نواز نے ان کا استقبال کیا پنجاب حکومت کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے اپنے قیام کے دوران صدر پیزشکیان صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کریں گے پاکستان اور ایران کے مابین اعلیٰ سطحی وفود کے اجلاس ہوں گے ایرانی صدر کے دورے کی ترجیحات میں پاکستان کے ساتھ زمینی فضائی اور سمندری راستوں کے ذریعے تجارت کو بڑھانا شامل تھے ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان کے ذریعے ایران چین پاکستان راہداری کے ذریعے شاہراہ ریشم سے جڑ سکتا ہے انہوں نے زور دیا کہ ایران اور پاکستان دونوں کے لیے سکیورٹی اور سرحدی مسائل انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور خطے میں امن واستحکام تعاون کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے” ایران کی پاکستان کے راستے چین سے تجارت کی خواہش کا اظہار اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ایران اپنی تجارت پاکستان کے راستے چین تک بڑھانی چاہتا ہے ساتھ ہی ایران چاہتا ہے کہ وہ یورپی ملکوں تک بھی تجارتی رسائی حاصل کرے ایران پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بھی مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے ایران کو اس بات کا اندازہ ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبہ ایک ایسا منصوبہ ہے جسکی بدولت پاکستان عنقریب ایک ابھرتی ہوئی معاشی قوت بننے والا ہے، پاکستان اور چین کے تعلقات ایک ایسی مضبوط بنیاد پر قائم ہیں کہ ان کا کوئی متبادل نہیں، یہ دوستی وقت اور حالات کی کسوٹی پر پوری اتری ہے جو باہمی اعتماد’ احترام اور مشرکہ مفادات پر مبنی ہے اس رشتے کی گہرائی تک کوئی دوسرا ملک نہیں پہنچ سکتا چین کے ساتھ پاکستان کا مشترکہ دفاع کا رشتہ ہے ہمارا نفع ہی نہیں نقصان بھی ایک ہے دوست ہی نہیں دشمن بھی ایک ہے چین ہمارا شراکت دار ہونے کے علاوہ ہمسایہ بھی ہے اس نے کئی اہم مواقع پر پاکستان کا ساتھ دیکر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ہمارا سچا خیرخواہ ہے اس لئے ہمیں چین کے ساتھ اپنے تعلقات بہت عزیز ہیں بین الاقوامی فورمز پر کئی بار چین نے ایسے حالات میں پاکستان کا ساتھ دیا جب ہمیں واقعی چین جیسے ملک کی بہت زیادہ ضرورت تھی پاکستان اور چین کی باہمی دوستی اور اعتماد کی ہی ایک شکل پاک چین اقتصادی راہداری ہے جو صرف ان دونوں ملکوں کیلئے نہیں بلکہ پورے خطے کیلئے ایک گیم چینجر منصوبہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے اس منصوبے کے ہر مرحلے سے پاکستان کی معیشت اور معاشرت دونوں کو فوائد ملنے کی امید ہے ماضی کے ان واقعات کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور ہر آزمائش میں یہ تعلقات پورے اترے ہیں جب سی پیک منصوبہ کی بنیاد رکھی گئی تو بھارت سمیت متعدد ممالک میں اس منصوبے کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا اسکی مخالفت بھی کی گئی مگر چین نے اس کی پرواہ نہیں کی اور منصوبے کی تکمیل کیلئے پوری توانائیاں صرف کیں اب جبکہ یہ منصوبہ 2030ء تک پائیہ تکمیل کو پہنچنے کے قریب ہے تو اسکی افادیت آہستہ آہستہ دیگر ممالک کو بھی محسوس ہو رہی ہے افغانستان نے بھی اس کی افادیت کو تسلیم کر لیا ہے ایران کی جانب سے پاکستان کے راستے چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بڑھانا اور چین کے ون روڈ ون بیلٹ منصوبے سے فائدہ اٹھانے کا عندیہ خوش آئند ہے ایران اس منصوبے سے اپنی تجارت کو یورپی ممالک وسعت دے سکتا ہے آنے والے وقت میں ایران کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دیگر ہمسایہ ممالک بھی بہت جلد سی پیک منصوبے سے فائدہ اٹھانے کیلئے پرتول رہے ہوں گے پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت ترین ملک ہے کہ چین کے اشتراک سے سی پیک منصوبہ یہاں بنا اور اس گیم چینجر منصوبہ کی بدولت پاکستان خوشحالی اور ترقی کی منزلیں تیزی سے طے کرتا ہوا اپنی معیشت کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے میں کامیاب ہو جائے گا، انشاء اﷲ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں