پہاڑی علاقوں میں سیاحت محدود کرنیکی سفارش (اداریہ)

خیبرپختونخوا میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری’ ملبے سے لاشیں نکالنے اور واموات کا بھی سلسلہ نہ رک سکا رابطہ پلوںاور سڑکوں کے بہہ جانے سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا’ بونیر’ تورغر’ باجوڑ’ شانگلہ’ مانسہرہ اور بٹگرام کے متاثرہ علاقوں میں ہر طرف تباہی’ قیامت صغریٰ کا منظر’ فضا سوگوار’ جاں بحق ہونیوالے افراد کی نمازجنازہ ادا کر دی گئیں، بونیر کے متاثرہ علاقوں میں 190افراد کی نمازجنازہ ادا کر دی گئی، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خوف کے سائے’ KP میں ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے تین سو ہو گئی بونیر میں گزشتہ 48گھنٹوں میں 204جانیں ضائع ہوئیں امدادی اداروں نے اموات کی تعداد 213بتائی ہے 50افراد تاحال لاپتہ ہیں متاثرہ اضلاع میں پاک فوج اور فرنٹیئر کور (FC) کا ریلیف آپریشن جاری KP کے متاثرہ 8اضلاع میں ایمرجنسی نافذ ہے گلگت بلتستان کا ملک بھر سے زمینی رابطہ 3روز سے منقطع ہے،، این ڈی ایم اے نے پنجاب میں بھی کلائوڈ برسٹ کا خدشہ ظاہر کر دیا مون سون میں شدت کے باعث پہاڑی علاقوں میں سیاحت محدود کرنے کی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آفات سے متاثرہ علاقوں میں عوامی تحفظ کیلئے آمدورفت محدود کی جائے ضرورت پڑنے پر دفعہ144 نافذ کی جائے این ڈی ایم اے ایکسپرٹ محمد طیب کا کہنا ہے کہ مغربی ہوائوں کا ایک سلسلہ پاکستان کی طرف بڑھ رہا ہے مشرقی اور مغربی ہوائوں کے ملاپ سے مون سون اسپیل کی شدت میں مزید اضافہ متوقع ہے آنے والے دنوں میں کلائوڈ برسٹ جیسے واقعات میانوالی’ چکوال’ تلہ گنگ اور اٹک میں بھی ہو سکتے ہیں اربن فلڈنگ کا بھی خطرہ ہے، دوسری جانب KP کے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت مشکل کی اس گھڑی میں اپنے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی متاثرین کی بحالی وآبادکاری کیلئے تمام وسائل استعمال کئے جائینگے، گورنر KP فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ متحد ہونے کا وقت ہے دورہ بالاکوٹ کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے شکر گزار ہیں جنہوں نے وزیراعلیٰ KP اور مجھے فون کر کے صوبے میں سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں اور انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور ہر ممکن امداد کی یقین دہانی کرائی،، بلاشبہ یہ وقت سیاست سے بالاتر ہے اور ہر فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں کے عوام سے نہ صرف ہمدردی کرے بلکہ حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کی بحالی کیلئے اظہار یکجہتی اور ہر ممکن امداد کرے! ماضی میں بھی خیبرپختونخواہ کے علاقوں میں قدرتی آفات بشمول سیلاب آتی رہی ہیں مگر امسال گزشتہ کئی برس کے مقابلے میں بہت زیادہ آفت آئی کلائوڈ برسٹ کے باعث گائوں کے گائوں صفحہ ہستی سے مٹ گئے ساڑھے تین سو سے زائد ہلاکتیں اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ مقامی انتظامیہ کے مطابق 50 کے قریب افراد تاحال لاپتہ ہیں ہلاک ہونے اور لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین پر کیا گزر رہی ہے یہ تو وہی جانتے ہیں اس وقت ان متاثرین کو ہمدردی اور بحالی کی فوری ضرورت ہے این ڈی ایم اے کی جانب سے صوبہ پنجاب کے بعض علاقوں میں بھی مون سون کی بارشوں سے ممکنہ سیلاب کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ این ڈی ایم اے نے پہاڑی علاقوں میں سیاحت کو محدود کرنے کی ایڈوائزری جاری کی ہے جس کا بڑا مقصد انسانی جانوں کا تحفظ ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ مون سون بارشوں وسیلاب کے خطرے کے پیش نظر لوگ پہاڑی علاقوں میں سیاحت کے لیے جانے سے گریز کریں این ڈی ایم اے کی ہدایات پر عمل کریں، KPحکومت کو متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر کے ان کیلئے تمام تر سہولیات کا انتظام کرنا چاہیے مویشیوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کے انتظامات کے ساتھ ساتھ جن علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریاں ہوئیں وہاں پر دوبارہ آبادیاں نہ بنانے کی ہدایت کی جائے تاکہ کسی بھی آفت کی صورت میں انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنانے میں مدد مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں