کلاؤڈ برسٹ کیا ہے؟

اسلام آباد ( بیو رو چیف )کلاؤڈ برسٹ ایک شدید موسمی مظہر ہے جس میں آسمان پر موجود بادلوں سے بہت زیادہ بارش ایک مختصر وقت میں گرنے لگتی ہے۔ یہ بارش اتنی تیز اور زیادہ ہوتی ہے کہ زمین کے موجودہ پانی نکاسی کے نظام کو سنبھالنا ممکن نہیں رہتا جس سے سیلاب اور پانی جمع ہونے کے حادثات رونما ہو جاتے ہیں۔بادل کا پھٹنا ایسے ہے جیسے بہت بڑے پانی سے بھرے غبارے میں سوراخ ہو جانے پر سارا پانی بوچھاڑ کی شکل میں ایک ہی بار بہہ کر ختم ہو جائے۔ بادل اچانک پھٹ جاتے ہیں اور اپنا کروڑوں ٹن پانی ایک ہی جگہ بہا دیتے ہیں جس سے انتہائی خوفناک تباہی آتی ہے۔اس کی موسمی یا سائنسی توجیح یہ ہے کہ جب بارش کی مقدار 100 ملی میٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہو جائے تو اس کو بادل کا پھٹنا(کلاؤڈ برسٹ)کہتے ہیں۔عام بارش اور کلاؤڈ برسٹ میں فرق یہ ہے کہ عام بارش آہستہ آہستہ اور لمبے عرصے تک ہوتی ہے، جبکہ کلاؤڈ برسٹ کی بارش چند منٹ سے چند گھنٹوں میں اتنی زیادہ مقدار میں گر سکتی ہے کہ یہ ہنگامی خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔کلاؤڈ برسٹ بننے کے لیے کچھ مخصوص موسمی اور ماحولیاتی حالات درکار ہوتے ہیں۔زمین پر زیادہ گرمی ہونے سے ہوا اوپر کی طرف اٹھتی ہے۔ اگر اس کے ساتھ نمی بھی زیادہ ہو، تو یہ ہوا بادلوں میں جمع پانی کو بڑھاتی ہے۔کلاؤڈ برسٹ زیادہ تر کومولونیمبس بادل(Cumulonimbus clouds) میں پیدا ہوتا ہے، جو طوفانی بارش اور بجلی کے لیے مشہور ہیں۔جب بادلوں کے اوپر کی ہوا اچانک زیادہ دبا یا تیز ہوا کے اثر سے نیچے کی طرف آتی ہے، تو یہ بادل میں موجود پانی کو زمین کی طرف تیز اور زبردست بارش کی شکل میں دھکیل دیتا ہے۔پہاڑی علاقوں میں کلاؤڈ برسٹ زیادہ عام ہوتا ہے کیونکہ پہاڑ ہوا کی رفتار اور بادلوں کی سمت میں رکاوٹ ڈال کر بادلوں میں جمع پانی کو زمین پر اتار دیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں