68

ریاست نوجوان نسل کے مستقبل کیلئے سنجیدگی اختیار کرے (اداریہ)

نوجوان کسی بھی ملک کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں ملکی ترقی وتعمیر میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہے ریاست اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک نوجوان اس کے ساتھ نہ ہوں ترقی کی سب سے بڑی مثالیں انہی ملکوں میں ہیں جہاں ریاست نے نوجوانوں کو سہارا دیا دنیا جانتی ہے کہ کسی بھی قوم کی اصل قوت اس کے نوجوان ہیں جو تعلیم’ ہنر’ افواج’ بزنس اور دیگر شعبوں میں اپنی تمام تر صلاحیتوں اور قوت کو استعمال کرتے ہوئے اپنا آپ منواتے ہیں، مگر ہماری ریاست شائد ابھی تک اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ نہیں پائی کہ ہمارے نوجوان وہ ہیں جنہوں نے تاریخ کے ہر موڑ پرقربانیاں دیں اور کبھی حوصلہ نہیں ہارا جنگوں کے وقت یہی نوجوان محاذوں پر ڈٹ گئے کھیلوں کے میدانوں میں یہی نوجوان دنیا کو حیران کرتے رہے مگر آج جب دنیا ترقی کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہی ہے تو ہمارے نوجوان ایک عجیب سی بے چینی کا شکار ہیں ریاست نے ان نوجوانوں کو وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ حقدار ہیں ہمارے ملک کے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لئے روزگار کے لیے کھڑے ہیں کیا یہ انصاف ہے؟ جاپان نے اپنے نوجوانوں کو تعلیم’ ہنر اور اعتماد دیا اور آج جاپان دنیا کی بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے چین نے بھی یہی کیا اپنے نوجوانوں کو ہنر دیا اور مواقع فراہم کئے اور آج چین دنیا کی سب سے بڑی طاقتوں میں شامل ہے پاکستان کے نوجوان بھی دنیا کے کسی نوجوان سے کم نہیں مگر ان کو وہ سہولتیں نہیں مل رہی جو ترقی یافتہ ملکوں میں دی جاتی ہیں اوورسیز پاکستانی نوجوان بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں مشرق وسطیٰ کی سخت گرمی میں مزدوری کرنے والے پاکستانی نوجوان ہوں یا یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے ہونہار طلبہ یہ سب دنیا کو بتا رہے ہیں کہ پاکستانی نوجوان صلاحیت اور محنت میں کسی سے کم نہیں ہمارے ہاں نوجوان نسل کو اہمیت نہیں دی جا رہی سسٹم میں خامیاں ہیں میرٹ کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ہنرمند نوجوان چھوٹے موٹے قرضوں کیلئے بینکوں کے چکر کاٹتے پھر رہے ہیں جبکہ اعلیٰ ڈگریاں حاصل کرنے والے نوجوان ملک چھوڑ کر غیر ملکیوں میں آباد ہو کر اپنی صلاحیتوں کو وہاں کے لوگوں کیلئے استعمال کر رہے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے ریاست کو چاہیے کہ نوجوانوں کے خوابوں کو بکھرنے سے بچانے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے سفارشی لوگوں کو سرکاری محکموں میں بھرتی کر کے میرٹ پر پورا اترنے والے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی نہ کی جائے ریاست کو اپنے رویے بدلنا ہوں گے ورنہ آنے والی دنوں میں نوجوانوں میں پیدا ہونے والی مایوسی ایک ایسے طوفان کی شکل اختیار کر سکتی ہے جسے روکنا دشوار ہو گا! ہنرمند نوجوانوں کیلئے مؤثر اقدامات وقت کی ضرورت ہیں نوجوان نسل کو نظرانداز کرنے سے ملکی مسائل میں اضافہ ہو گا نوجوانوں کے خوابوں کو سہارا دینا ان کی محنت کو قدر دینا ان کی صلاحیتوں کو راستہ دینا ہی ریاست کا سب سے بڑا امتحان ہے اگر یہ امتحان پاس کر لیا تو پاکستان کا مستقبل روشن ہے اور اگر یہ موقع کھو دیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کرینگی۔ نوجوان قوم کا حقیقی اور قیمتی سرمایہ ہیں اور ریاست کی سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ اس سرمائے کی قدر کرے یہ وہ وقت ہے جب ریاست کو اپنے نوجوانوں پر اعتماد کرنا ہو گا ان کے خواب حقیقت بنانے ہوں گے اور انہیں یہ احساس دلانا ہو گا یہ ملک ان کا ہے اور ان کے خواب اس کے خواب ہیں اگر یہ کریں تو یقین کریں پاکستان دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں