28

(ایس سی او) مستقبل کے عالمی نظم کی بنیاد رکھ رہی ہے (اداریہ)

شنگھائی تعاون تنظیم جسے آج دنیا صرف ایک علاقائی تعاون کا پلیٹ فارم سمجھتی ہے، دراصل مستقبل کے عالمی نظم کی بنیاد رکھ رہی ہے، امریکہ کی یکطرفہ بالادستی کا دور عملاً ختم ہو رہا ہے اور ایک کثیر قطبی دنیا ابھر رہی ہے جہاں طاقت کے مراکز صرف واشنگٹن یا برسلز تک محدود نہیں بلکہ بیجنگ’ ماسکو’ نئی دہلی’ انقرہ’ تہران اور اسلام آباد بھی عالمی فیصلوں میں اپنا وزن ڈال رہے ہیں ایسے میں سوال یہ ہے کہ دنیا کا امن’ عالمی تجارت اور ریاستوں کے باہمی تعلقات کس رُخ پر جائیں گے تجارت کے میدان میں دنیا نئے بلاکس میں تقسیم ہو رہی ہے چین کی بیلٹ اینڈروڈ انیشی ایٹو’ روس کی توانائی کی برآمدات’ خلیجی ریاستوں کی سرمایہ کاری’ افریقہ کے وسائل اور یورپ کی ٹیکنالوجی مل کر ایک نئی معاشی تصویر بنا رہے ہیں پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ وقت فیصلہ کن ہے کہ وہ کس سمت کا انتخاب کرتا ہے اگر پاکستان چین اور وسطی ایشیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرتا ہے تو سی پیک جیسی راہداری اسے خطے کی معیشت کا مرکز بنا سکتی ہے، اگر وہ صرف مغرب کی طرف دیکھے گا تو قرضوں اور دبائو کے شکنجے میں پھنسا رہے گا، موجودہ عالمی صورتحال کے پیش نظر آج دنیا کو صرف ایک نئے سیاسی نظام کی نہیں بلکہ ایک نئے سماجی اور معاشی نظام کی بھی ضرورت ہے جہاں عوام کو جنگوں’ مہنگائی اور بے روزگاری سے نجات ملے’ چین کے ساتھ تعلقات پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے اور اس کا ثبوت کئی مواقع پر دنیا کو مل چکا ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس اس حقیقت کا عکاس ہیں کہ عالمی طاقتوں کے درمیان جو کشمکش چل رہی ہے اس کا مرکز اب صرف واشنگٹن’ ماسکو یا بیجنگ نہین رہا بلکہ اب تو اسلام آباد بھی اہم ہوتا جا رہا ہے، چین میں دوسری جنگ عظیم کی فتح کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ شاندار فوجی پریڈ میں ایشیا کے طاقتور ترین راہنما ایک ساتھ دکھائی دیئے بیجنگ میں ہونے والی اس عظیم الشان تقریب میں چین کے صدر شی جن پنگ’ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ایک ساتھ پریڈ وینیو میں داخل ہوئے جسے عالمی میڈیا نے بھرپور کوریج دی پریڈ میں پاکستان کی اعلیٰ سطح کی شرکت خطے میں اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے تینوں راہنمائوں کی ایک ساتھ موجودگی کو ایشیائی طاقتوں کے اتحاد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے تقریب میں بھارتی وزیراعظم مودی کو مدعو نہیں کیا گیا جس پر مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خطے میں بدلتے ہوئے تز ویراتی توازن کی عکاسی کرتا ہے چین کی یہ عظیم الشان پریڈ نہ صرف ماضی کی عظیم قربانیوں کو یاد کرنے کا موقع بنی بلکہ خطے کی موجودہ سیاسی اور اسٹریٹجک صورتحال کا بھی عملی اظہار رہی، چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو حقیقت میں ایک معاشی انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے اس منصوبے کا مقصد نہ صرف ایشیا، افریقہ اور یورپ کو جوڑنا ہے بلکہ ایک ایسا معاشی ڈھانچہ تشکیل دینا ہے جو امریکی اور یورپی اجارہ داری کو نہ صرف کمزور کر دے، پاکستان میں سی پیک اسی منصوبے کا ایک اہم جزو ہے اگر یہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو پاکستان نہ صرف خطے کی تجارتی گزرگاہ بن سکتا ہے بلکہ اس کی معیشت میں بھی ایک نئی جان پڑ سکتی ہے، پاکستان وسط ایشیائی ممالک اور روس کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے جو اقتصادی ترقی اور تنوع کے فروغ کیلئے ضروری ہے یہ نئی معاشی شراکت داریاں پاکستان کو موجودہ بحران کی صورتحال سے نکالنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اس طرح اقتصادی تعاون پاکستان کے وسیع تر جغرافیائی سیاسی اہداف سے منسلک ہے کیونکہ مضبوط اقتصادی تعلقات خطے میں ملک کی سٹریٹجک اہمیت کو تقویت دیں گے بالخصوص پاک جین شراکت داری خطے کی ترقی اور امن کیلئے پہلے بھی اہمیت کی حامل رہی ہیں اور آئندہ بھی یہ دونوں ملک خطے کی ترقی وخوشحالی کیلئے اہم کردار ادا کرتے رہیں گے، شنگھائی تعاون تنظیم کے زیراہتمام بیجنگ میں ہونے والے غیر معمولی اجلاس اور چین کی عسکری قوت کے اظہار کیلئے عظیم الشان فوجی پریڈ نے عالمی طور پر ہلچل مچا دی ہے مستقبل میں نئے عالمی نظم کے آثار نظر آ رہے ہیں اور یہ کوئی معمولی بات نہیں مستقبل میں عالمی سیاسی صورتحال کیسی ہو گی اس بارے ماہرین کو اندازہ لگانا ہو گا ابھی ابتدا ہے عالمی ممالک کو بھی اس حوالے سے تیاریاں رکھنی ہوں گی کیونکہ جلد یا بدیر ان کو بھی نئے عالمی نظم میں خود کو شامل کرنا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں