بزنس کمیونٹی کیلئے خوشخبری،امریکی ٹیرف میں نمایاں کمی یقینی

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) بزنس کمیونٹی کیلئے خوشی کی خبر یہ ہے کہ امریکہ میں کئی مصنوعات پر امپورٹ ٹیرف میں کمی ہو رہی ہے۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بے تحاشا امپورٹ ٹیرفس کی پالیسی میں ایک ڈرامائی یو ٹرن لیا ہے اورکئی مصنوعات پر امپورٹ ٹیکس میں ریلیف دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔کئی اہم امپورٹس پر کم ٹیرف پیر سے نافذ ہوگا۔صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیا ایگزیکٹیو آرڈر جاری کیا ہے جس کے تحت انہوں نے گریفائٹ، ٹنگسٹن، یورینیم، سونے کے بلین اور کئی دوسری دھاتوں پر سے ٹیرف ہٹا دیا ہے۔ واشنگٹن سے آنے والی مصدقہ خبروں کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دنیا بھر کے ملکوں پر عائد کیے گئے ٹیرف میں کچھ تبدیلی کی ہے۔ انہوں نے کچھ اشیا کو “ریسیپروکل ٹیرف” سے باہر کر دیا ہے۔ وائٹ ہاوس نے 2 اپریل کو جو دو طرفہ ٹیرف (ریسی پروکل ٹیرف) نافذ کئے تھے، ان مین اب نرمی کر دی ہے اور کئی بہت اہم امپورٹس کو ان خطرناک ٹیرفس کی لسٹ سے نکال دیا ہے، ان اشیا میں صرافہ سے متعلق سامان اور کچھ اہم معدنیات اور دوا کے زمرہ مین آنے والی مصنوعات شامل ہیں۔وائٹ ہاوس نے بتایا کہ نئے حکم میں ایلیومنیم ہائیڈرو آکسائڈ، ریجن اور سلیکون کی مصنوعات بھی شامل ہیں، جن پر اب رو طرفہ کی بجائے پرانیروایتی ٹیرف نافذ ہوں گے یہ تبدیلی پیر سے نافذ ہوگی۔صدر ٹرمپ نے ایک خاص حکم جاری کیا جس میں گریفائٹ، ٹنگسٹن، یورینیم، سونے کے بلین اور کئی دوسری دھاتوں پر ٹیرف ہٹا دیا گیا، لیکن سلیکون پروڈکٹس پر یہ ٹیرف لگا دیا گیا ہے۔ سیوڈو ایفڈرن، اینٹی بایوٹکس اور کچھ دوسری دوائیاں جو پہلے سے ہی محکمہ کامرس کی جانچ کے دائرے میں تھیں، انہیں بھی اس نئے حکم میں ریلیف ملا ہے۔اس نئے ایگزیکٹو آرڈر سے امریکہ کی مارکیت میں بہت سی پروڈکٹس کی قیمتین نیچے آئیں گی اور یہ پروڈکٹس، دھاتین وغیرہ امریکہ کو بھیجنے والے ملکوں کی کئی مرتی ہوئی انڈسٹریوں میں نئی جان پڑ جائے گی۔گزشتہ مہینے کئی ملکوں پر الگ الگ ٹیرف بڑھانے سے پہلے ٹرمپ نے کچھ ملکوں کے ساتھ معاہدے کیے تھے، جس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ کم ٹیرف کے بدلے غیر ملکی سرمایہ کار امریکی سامان کی خریداری بڑھائیں گے۔یہ ٹیرف اور کچھ سودے جلدبازی میں کئی مہینے میں پاس کیے گئے۔ اس سے تشویش بڑھی کہ یہ ٹیرف خۖد امریکہ کی مارکیٹ کو متاثر کر سکتے ہیں اور ان چیزوں کی قیمت بڑھا سکتے ہیں، جنہیں امریکہ میں بنایا یا حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ٹرمپ انتظامیہ نے چین پر 20 فیصد ٹیرف، میکسیکو پر 25 فیصد، کینیڈا پر 35 فیصد، برازیل پر 40 فیصد اور ہندوستان پر 25 فیصد اور اضافی 25 فیصد یعنی 50 فیصد ٹیرف لگایا ہے۔ٹرمپ نے ہندوستان کے ساتھ امریکی تجارتی تعلقات کو یکطرفہ آفت بتایا تھا۔ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا تھا، بہت کم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہندوستان کے ساتھ بہت تجارت کرتے ہیں، لیکن وہ ہمارے ساتھ بہت زیادہ تجارت کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ ہمیں بھاری تعداد میں سامان فروخت کرتے ہیں، امریکہ ان کا سب سے بڑا صارف ہے، لیکن ہم ان کو بہت کم بیچتے ہیں، اب تک یہ پوری طرح سے یکطرفہ رشتہ رہا ہے۔ یہ کئی دہائیوں سے چلا آ رہا ہے۔ اس کے بعد ٹرمپ نے بھارت کی پروڈکٹس پر پچاس فیصد ٹیرف لگا دیا جو اب تک برقرار ہے۔ اب صدر ٹرمپ نے جن چیزوں پر بھاری ٹیرف ہٹایا ہے، ان مین سے بہت کم ایسی ہیں جو بھارت سے امریکہ کو بیچی جاتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں