35

سیلاب سے بچائو کیلئے عملی اقدامات ناگزیر قرار (اداریہ)

شدید بارشوں اور بدترین سیلاب سے ہونے والی تباہی سے جو نقصان ہوا فوری طور پر تو اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے اس قدرتی آفت نے پورے ملک کے عوام کو خوفزدہ کر دیا خیبرپختونخوا کے اضلاع میں تباہی مچانے کے بعد سیلاب نے پنجاب کا رخ کیا بھارت کی طرف سے پانی چھوڑنے کے باعث پنجاب کے دریائوں میں سیلاب آیا دریا بپھر گئے سیلابی پانی نے اپنی راہ میں آنے والے کئی دیہات ملیامیٹ کر دیئے ہزاروں افراد بے گھر اور ان کا مال ڈنگر پانی کی نذر ہو گیا ریسکیو اداروں نے سرتوڑ کوششیں کر کے سیلابی پانی میں گھرے خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ان کے مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر پہنچایا سیلاب پنجاب میں تاحال تباہ کاریاں مچا رہا ہے مواصلاتی نظام بھی درہم برہم ہو چکا ہے سڑکیں سیلابی پانی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کا چلنا محال ہے مواصلاتی رابطے کٹنے سے صورتحال مزید بگڑ رہی ہے پاک فوج متاثرہ علاقوں میں متاثرین سیلاب کی مدد کیلئے موجود ہے جنوبی پنجاب کے علاقے ملتان’ شجاع آباد’ جلال پور پیروالا’ ہریکے فیروز پور میں اونچے درجے کے سیلاب کے باعث لوگ خوف وہراس میں مبتلا ہیں بوریوالہ’ موضع بھٹیاں کا علاقہ بھی شدید متاثر ہوا پنجاب کے بعد سیلابی ریلے سندھ کی جانب جانے لگے دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے پنجند پر پانی کی آمد واخراج 5لاکھ 17ہزار کیوسک ہے جھنگ کے 304دیہات زیرآب آ گئے فصلیں تباہ ہو گئیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن میں پاک فوج کی 14کشتیاں حصہ لے رہی ہیں ریسکیو1122 کی آٹھ کشتیاں جبکہ پولیس نے 5پرائیویٹ کشتیاں بھی آپریشن میں شامل کر لی ہیں مجموعی طور پر 27کشتیاں متاثرین کو ریسکیو کرنے میں مصروف ہیں دریائے سندھ میں راجن پور کے مقام پر پانی کے بہائو میں مسلسل اضافہ جاری ہے وفاق’ پنجاب’ خیبرپختونخوا اور سندھ حکومت قدرتی آفت سے نمٹنے اور شہری اور دیہی علاقوں کے عوام کی حفاظت اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد میں مصروف ہے، سیلاب نے پاکستان کو 30 سال پیچھے دھکیل دیا ہے سڑکیں پل’ سیلابی بند پانی میں بہہ گئے کئی دیہات تباہ ہوئے خیبرپختونخوا میں سیلاب متاثرین کی مالی امداد کے ساتھ ساتھ ان کی مکمل بحالی کیلئے اقدامات جاری ہیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر سیلاب متاثرین کیلئے فلڈ ریلیف کیمپوں میں متاثرین سیلاب کو پانی’ کھانا اور ضروری اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں موسم کی تبدیلی کے پیش نظر مچھر مار’ جراثیم کش سپرے اور فوگ سپرے کا آغاز کر دیا گیا ہے وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ٹینٹ سٹی میں بھی اینٹی ڈینگی سپرے کیا جا رہا ہے فلڈ ریلیف کیمپوں میں صفائی کے بہترین انتظامات ستھرا پنجاب کی ٹیمیں متحرک ہیں علاوہ ازیں صوبہ بھر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں متعدی بیماری سے بچائو کیلئے کمپیئن جاری ہے’ اﷲ ہمیں آفت سے نجات عطا فرمائے،، پاکستان کو اس وقت جس صورتحال کا سامنا ہے وہ واقعی بڑی تکلیف دہ ہے اور کوئی ترقی یافتہ ملک بھی اس طرح کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار نہیں ہوتا یہ بات بھی درست ہے کہ یہ سیلاب پاکستان کو 30سال پیچھے لے گیا ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں پیشگی منصوبہ بندی کا ذمہ دار کون تھا؟ سیلاب اور طوفانی بارشوں کی وجہ سے پاکستان کو پہلی بار ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کو سامنے رکھا جائے تو ایسا آخری مرتبہ بھی نہیں ہو رہا لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ کسی بھی حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے ابھی بھی وقت ہے وفاقی اور صوبائی حکومتیں سرجوڑ کر بیٹھیں اور غور کریں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے کیا اقدامات کئے جا سکتے ہیں اگر وفاق اور چاروں صوبائی حکومتیں ملک میں بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کیلئے آمادہ ہو جائیں اور اسکی تعمیر کیلئے فوری اقدامات کریں تو مستقبل میں قدرتی آفت /سیلاب سے کسی حد تک بچائو میں مدد مل سکتی ہے یاد رہے کہ اگر صرف بیان بازی پر گزارہ کیا گیا تو آنے والے وقتوں میں موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کیلئے زیادہ مشکلات لا سکتی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہنے کیلئے ابھی سے تیاریاں شروع کی جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں