زرعی یونیورسٹی میں سارک بک کارنر کا افتتاح

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) سارک ممالک کے مابین موسمیاتی اعتبار سے موزوں زراعت اور غذائی استحکام کے حوالے سے تعاون اور معلومات کا تبادلہ بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنا اور زرعی چیلنجوں پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے مین لائبریری میں سارک ایگریکلچر سینٹر کے زیرِ اہتمام ”بک کارنر” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈینز، ڈائریکٹرز اور پرنسپل افیسرز بھی موجود تھے جبکہ بنگلہ دیش، نیپال اور پاکستان کے سارک نمائندوں نے بھی آن لائن شرکت کی۔ ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ بک کارنر سارک کے رکن ممالک کے لیے موسمیاتی اعتبار سے موزوں زراعت میں تحقیق، تعاون اور جدت کا ایک ذریعہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں سارک ایگریکلچر سینٹر بک کارنر کے لئے کتابوں کا ایک بیش قیمت مجموعہ عطیہ کرنے پر سارک ایگریکلچر سینٹر بنگلہ دیش کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام علمی سفارت کاری کو مضبوط کرے گا، بین الاقوامی تعاون کو فروغ دے گا اور علاقائی شراکت داری کو پروان چڑھائے گا۔ نیپال سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر تنویر احمد ٹوروفدر نے کہا کہ اس طرح کے بک کارنرز نوجوان اذہان کے لیے خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مشترکہ چیلنجوں کے حل کے لیے سوچنے، جدت لانے اور تعاون کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔ بنگلہ دیش سے سارک ایگریکلچر سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ہارون الرشید نے کہا کہ معلومات کا تبادلہ سارک کے رکن ممالک کے درمیان رابطے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ انہوں نے زراعت، آب و ہوا اور خوراک کے شعبوں میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماہرین کی کاوشوں کو سراہا۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ اسلام آباد سے سارک کے ڈائریکٹر محمد عدیل پرویز نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ساک بک کارنر کا افتتاح ایک یادگار موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ سارک مشترکہ وژن، اجتماعی حکمت اور باہمی تعاون سے حل کی نمائندگی کرتا ہے۔ بک کارنر کا آغاز سارک کے آٹھ رکن ممالک سے متعلق موسمیاتی اعتبار سے موزوں زراعت اور غذائی تحفظ پر 250 سے زائد مطبوعہ کتابوں اور 100 سے زائد ڈیجیٹل وسائل کے مجموعے سے کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں