31

قدرتی آفات پر قابو پانے کے اقدامات ناگزیر قرار (اداریہ)

کئی سال قبل موسمیاتی تبدیلیوں کی بازگشت سنائی دی تھی جو ممالک اس سے بچائو کیلئے پیشگی اقدامات کر چکے ان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے زیادہ نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا جن ممالک کیلئے خطرہ ظاہر کیا گیا تھا ان میں پاکستان بھی شامل ہے بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں کچھ اندازہ نہیں تھا گزشتہ برس بھی اسکی ایک جھلک دکھائی دی مگر اس کے باوجود حکمرانوں نے اس آفت سے نمٹنے کی کوئی تیاری کی نہ ہی عوام کو اس حوالے سے کوئی آگاہی فراہم کی گئی اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ پاکستان کا خطہ ایک بار پھر قدرتی آفت کے کڑے امتحان سے گزر رہا ہے دریائے ستلج اور چناب کے کنارے پر بسنے والے لاکھوں لوگ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی محنتوں کا حاصل پانی میں بہتا دیکھ رہے ہیں کھڑی فصلیں ڈوب چکی ہیں مویشی پانی میں بہہ گئے، گھر زمین بوس ہو گئے جہاں کبھی ہریالی ہوا کرتی تھی وہاں اب فقط پانی ہی پانی ہے، یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب پاکستان سیلاب کی زد میں آیا ہو 2010ء کا سیلاب’ جسے اقوام متحدہ نے سپرفلڈ قرار دیا تھا’ اس میں دو کروڑ افراد متاثر ہوئے تھے’ پھر 2022ء کا سیلاب آیا جس نے سندھ اور بلوچستان کو اجاڑ دیا جس کے بعد دنیا نے اسے ”کلائمنٹ کیٹا سٹرونی” کا نام دیا اب 2025ء میں پھر وہی کہانی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار علاقے بدلے ہیں اعداد وشمار نئے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم نے ان سب تجربات سے کیا سیکھا؟ کیا ہمارے اداروں نے کوئی مستقل حکمت عملی بنائی، کیا بندوں کو مضبوط کیا گیا؟ کیا ندی نالوں کی بروقت صفائی کی گئی؟ کیا ڈیموں کی مرمت اور انتظامی بندوبست کیا گیا؟ کیا آبادی کو بروقت وارننگ دی گئی؟ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کسی سوال کا جواب ہاں میں نہیں دیا جا سکتا متاثرین کی حالت اس قدر ابتر ہے کہ انسانیت بھی شرما جائے، یہ سب ہماری ناکام پالیسیوں کی بدولت ہے صوبائی حکومتیں اپنی ذمہ داری وفاق پر ڈال دیتی ہیں وفاق این ڈی ایم اے پر ڈال دیتا ہے اور این ڈی ایم اے والے صوبوں کو قصور وار ٹھہرا دیتے ہیں، ہم نے پچھلے 75برسوں میں ترقیاتی منصوبے تو بنائے اربوں روپے خرچ کئے لیکن انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنے اور موسمیاتی خطرات کے مقابلے کی منصوبہ بندی کو ہمیشہ نظرانداز کیا نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف متاثرہ عوام آسمان کی طرف منہ کر کے مدد کی دعائیں کر رہے ہیں اور دوسری طرف حکمران ٹی وی پر آ کر دعوے کر رہے ہیں کہ ہم نے یہ اقدامات کئے ہیں مگر یہ ”ممکن اقدامات” صرف کاغذ پر ہیں زمینی حقیقت ان کے بالکل برعکس ہے، سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہم کب طے کریں گے کہ وقتی ریلیف کے بجائے مستقل حل کی طرف جائیں؟ کیوں ہر سال ایک جیسا منظرنامہ دہرایا جاتا ہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں یہ سوال صرف حکومت یا اداروں سے نہیں بلکہ ہم سب کے لیے ہے کیونکہ بطور قوم ہم نے بھی ان ناکامیوں پر کبھی آواز بلند نہیں کی یہ وقت موسمیاتی تبدیلیوں پر سنجدگی سے غور کرنے کا ہے بارش اب پہلے سے زیادہ ہو رہی ہیں دریائوں کا بہائو تیز ہو چکا ہے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں مگر ان خطرات کے باوجود ہمارے حکمران اپنی ترجیحات میں موٹرویز’ پلوں’ میٹروبسوں کو رکھتے ہیں جبکہ ڈیم اور دریائوں کنارے بند باندھنا ان کی فہرست میں موجود نہیں جو لمحہ فکریہ ہے یہ حقیقت بھی کسی المیے سے کم نہیں کہ ہر آفت کے بعد ہمارے راہنما صرف ایک جملہ دہراتے ہیں کہ ہم متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں اگر واقعی وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں تو آج لاکھوں لوگ بار بار اپنی زندگیوں کو بچانے کیلئے پانیوں میں تیرنے پر مجبور نہ ہوتے اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے تو آنے والے برسوں میں حالات اور سنگین ہوں گے دریائوں کے بہائو اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے مزید بڑے طوفان آئیں گے اور پھر شائد ہمارے پاس سنبھلنے کا وقت نہ ہو ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قومی وسائل کو درست سمت میں لگائیں اپنی سوچ کو بدلیں اگر ہم نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کرینگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں