27

فوج مخالف بیانات’ عمران کے سوشل میڈیا اکائونٹ کی چھان بین (اداریہ)

عمران کے فوج مخالف بیانات’ سوشل میڈیا اکائونٹ کی چھان بین’ سائبر کرائم ایجنسی اڈیالہ جیل پہنچ گئی بانی پی ٹی آئی کے ساتھ 45منٹ تک ملاقات کی عمران خان سے جواب دینے سے انکار کیا اور کہا کہ اگر سوالات تحریری طور پر دیئے جائیں تو تعاون کروں گا تحقیقات کا مقصد یہ جاننا تھا کہ عمران کا سوشل میڈیا اکائونٹ پاکستان سے چلایا جا رہا ہے یا بیرون ملک سے؟ تاکہ متنازع مواد پوسٹ کرنے والے فرد یا گروہ کی نشاندہی کی جا سکے تین رکنی تحقیقاتی ٹیم کی قیادت ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان کر رہے تھے تحقیقات کا آغاز اس وقت ہوا جب عمران کے اکائونٹ سے تین ٹوئٹس شائع ہوئیں جن میں حکومت اور مقتدر حلقوں پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ NCCIA ٹیم کی عمران خان سے 45 منٹ تک ملاقات ہوئی تاہم کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر ختم ہو گئی کیونکہ عمران خان نے حکام کے سوالات دینے سے انکار کر دیا تھا،، فوج مخالف بیانات پر اڈیالہ جیل میں سائبر کرائم ایجنسی ٹیم کی عمران خان سے تحقیقات کے حوالے سے ملاقات کسی نتیجہ کے بغیر ختم ہونے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عمران خان تحقیقاتی ٹیم سے تعاون کرنے کیلئے تیار نہیں یہ بات ان کے حق میں نہیں جاتی! بانی پی ٹی آئی اپنی 30سالہ سیاست میں پہلی بار پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی گڈ بُک میں نہیں رہے اور بظاہر یہ کشیدگی بڑھتی نظر آ رہی ہے عمران خان دو سال سے زائد عرصہ سے جیل میں بندھیں جو ان کے سیاسی کیریئر کی پہلی بڑی قید ہے اس سے پہلے وہ جنرل مشرف کے دور میں بھی چند دن جیل میں رہے تھے جس کے دوران انہوں نے بھوک ہڑتال بھی کی تھی 1996ء میں جب تحریک انصاف کی بنیاد رکھی گئی تو اس میں بیشتر لوگ عمران کے ذاتی دوست تھے اور شاید ہی کوئی سیاسی تجربہ رکھتا ہو 1999ء میں نواز شریف کی حکومت ہونے کے بعد پہلی بار عمران خان سیاسی میدان میں آئے اور مشرف کی حمایت کی تاہم اس وقت کے الیکشن میں عمران صرف میانوالی سے رکن اسمبلی بن سکے تھے، ملک میں ابتر سیاسی صورتحال کے باعث 2011ء میں عمران خان کو تیسرے آپشن کے طور پر سامنے لایا گیا 2013 کے الیکشن میں پہلی بار انہیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اچھی خاصی نشستیں حاصل ہوئیں یہاں تک کے KP میں انکی حکومت قائم ہو گئی 2018ء میں عمران پہلی بار وزیراعظم بنے اپریل 2022ء میں عمران کو عوامی حمایت حاصل رہی جس میں خاص طور پر نوجوان اور پی پی پی’ مسلم لیگ (ن) کے مخالفین کی بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہوئی سیاسی حالات کے پلٹا کھانے کے بعد عمران کا اقتدار ڈانواڈول ہوا جب ان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہوئی ان کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا تو انہوں نے مختلف کارڈ کھیلے اور عوام خصوصاً نوجوانوں کی حمایت سے مقبول ترین لیڈر بن کر سامنے آئے اس موقع پر ان کا سوشل میڈیا ونگ اس قدر متحرک تھا کہ حکومت کیلئے بھی مشکلات بڑھ گئیں لیکن جب سوشل میڈیا پر فوج مخالف بیانیئے سامنے آئے تو اسے تشویشناک قرار دیا گیا اسٹیبلشمنٹ اور بانی پی ٹی آئی کے درمیان دوریاں پیدا ہو گئیں گزشتہ دو سال سے عمران جیل میں ہیں ان کی پارٹی میں بھی دراڑیں آ چکی ہیں متعدد پارٹی لیڈر ادھر اُدھر ہو چکے ہیں موجودہ لیڈرشپ بے اختیار ہے اور بانی پی ٹی آئی کا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے ان کے خلاف کیسز کی سماعت ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں ہو رہی ہے اور عمران خان اور انکی اہلیہ اپنے کیسز کے فیصلہ کے منتظر ہیں عمران خان کے جیل میں ہونے کے باوجود ان کے سوشل میڈیا اکائونٹ سے فوج مخالف بیانات سامنے آ رہے ہیں جس کی تحقیقات کیلئے سائبر کرائم ایجنسی نے ان سے ملاقات کر کے تحقیقات کرنا چاہی تھی مگر ان کے عدم تعاون سے ملاقات بے نتیجہ رہی اصولی طور پر تو عمران خان کو تحقیقات ایجنسی سے مکمل تعاون کرنا چاہئے تھا اور سائبر کرائم ایجنسی ٹیم کو یقین دلانا چاہئے تھا کہ وہ ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہیں ان کے عدم تعاون کی وجہ سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے عمران خان کو کسی قسم کی رعایت ملنا تو درکنار ان سے رابطہ کرنا بھی دشوار ہو گیا ہے حکومتی اداروں کو اپنا کام کرنے دیا جائے اور ان کے ساتھ مکمل تعاون کرنے اور عدالتوں سے مقدمات کے فیصلوں کے نتیجہ میں ہی عمران اور ان کی اہلیہ کو ریلیف مل سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں