35

پاکستان میں سیلاب سے 25لاکھ افراد بے گھر (اداریہ)

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ مون سون بارشوں اور اس کے نتیجہ میں سیلاب کے باعث 60لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ 25لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں سیلاب متاثرہ علاقوں کی صورتحال شدید انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، عالمی برادری اس بحران سے نمٹنے کیلئے امداد فراہم کرے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور کے سربراہ کارلوس گیہا نے اپنی رپورٹ میں کہا پاکستان میں مون سون بارشوں نے تباہی مچائی ہے لاکھوں افراد کے بے گھر ہونے کا معاملہ کوئی معمولی نہیں بلکہ شدید انسانی بحران ہے لہٰذا فوری طور پر عالمی امداد کی جانی چاہیے کارلوس گیہا نے کہا ہے کہ پاکستان کے علاقوں پنجاب’ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں آنے والے سیلاب نے مقامی آبادی کو مکمل طور پر بے یارومددگار کر دیا ہے اور جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ صرف آغاز ہے اصل تباہی اس سے کہیں زیادہ ہے رپورٹ کے مطابق جون کے آخر میں شروع ہونے والی شدید بارشوں کے باعث اب تک ایک ہزار کے قریب افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 250 بچے بھی شامل ہیں سیلاب نے سب سے زیادہ نقصان پنجاب میں پہنچایا جہاں بھارت کی جانب سے ڈیموں سے پانی چھوڑنے کے بعد دریائوں نے تباہی مچائی اور 47لاکھ افراد متاثر ہوئے کئی علاقوں میں پورے پورے گائوں پانی میں ڈوب چکے ہیں سڑکیں اور پل تباہ ہو گئے ہیں جبکہ 2،2 ملین ہیکٹر زرعی زمین بھی زیرآب آ گئی ہے گندم کے آٹے کی قیمت میں صرف ستمبر کے پہلے ہفتے میں 25فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا کارلوس نے کہا کہ یہ وہ کسان ہیں جو پورے ملک کا پیٹ پالتے ہیں آج ان کے پاس مزین ہے نہ مویشی اور نہ ہی کوئی سہارا ہے ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے فوری امداد کیلئے 5ملین جاری کئے ہیں جبکہ مزید 1.5 ملین ڈالر مقامی این جی اوز کو دیئے ہیں انہوں نے کہا کہ اصل چیلنج اگلا مرحلہ ہے جب ان متاثرین کو دوبارہ زندگی کی طرف واپس لانا ہو گا انہوں نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ یہ پاکستان کی غلطی نہیں بلکہ وہ ممالک جو ماحولیاتی تبدیلی کے ذمہ دار ہیں انہیں اس بحران کی ذمہ داری بھی اٹھانی ہو گی،، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور کے سربراہ کارلوس گیہا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مون سون بارشوں اور بدترین سیلاب سے بہت تباہی ہوئی ہے خیبرپختونخوا میں کلائوڈ برسٹنگ اور شدید بارشوں سے تباہی ہوئی جبکہ پنجاب میں مون سون بارشوں کے ساتھ ساتھ بھارت کی طرف سے دریائوں میں پانی چھوڑے جانے سے تباہی مچ گئی جس کا اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ پنجاب میں کتنا نقصان ہوا ہے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 60لاکھ کے لگ بھگ افراد سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہوئے جبکہ 25لاکھ سے زیادہ افراد کو نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑا سیلاب کے باعث کسانوں کی فصلیں پانی میں بہہ گئیں ان کے قیمتی مویشی پانی کی نذر ہوئے جبکہ بڑی تعداد میں افراد بھی پانی میں ڈوب کر دنیا فانی سے چلے گئے جانی نقصان کے ساتھ ساتھ مالی نقصان کے متاثرین سیلاب پر گہرے اثرات مرتب ہوئے پاکستان میں اتنے بڑے پیمانے پر آنے والی تباہی کے بعد اقوام متحدہ نے عالمی ممالک سے اپیل کی ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کیلئے فوری طور پر مالی امداد بھجوائی جائے تاکہ بے گھر افراد کو ان کے گھروں میں واپس بھجوانے کے اقدامات کو مکمل کیا جا سکے، بلاشبہ 2025ء کا سیلاب گزشتہ سال کے مقابلے میں بہت تباہی لایا سیلاب کی تباہ کاریوں سے پاکستانی معیشت بھی متاثر ہوئی کیونکہ سیلاب متاثرین کیلئے قائم ریلیف کیمپوں میں متاثرین سیلاب کیلئے پانی کھانا اور دیگر اشیائے ضروریہ کی فراہمی کیلئے وسائل درکار ہیں اس حوالے سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور کارلوس کی عالمی برادری سے مالی مدد کی اپیل وقت کی آواز ہے پاکستان میں بدترین سیلاب اور شدید بارشوں سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کی فوری مدد سے ہی ان کی بحالی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے یوں تو فلاحی تنظیمیں بھی متاثرین کے دکھوں کا مداوا کرنے میں مصروف ہیں تاہم ان کے پاس بھی محدود وسائل ہوتے ہیں اب اقوام متحدہ پر ہی پاکستان کی نظریں ہیں کہ اسکی اپیل پر عالمی ممالک پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کیلئے رقوم بھجوائیں تاکہ انسانی بحران سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں