23

معاشی ترقی کے لئے اہم حکومتی پیش رفت (اداریہ)

معاشی تعاون کو مزید گہرا کرنے کیلئے ایک اہم پیشرفت کے تحت پاکستان نے ترکیہ کو کراچی انڈسٹریل پارک میں ایک مخصوص ایکسپورٹ پروسیسنگ زون (ای پی زی) قائم کرنے کیلئے 1000 ایکڑ زمین بلامعاوضہ فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے یہ تجویز پہلی بار وزیراعظم شہباز شریف نے اپریل 2025ء میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ دوطرفہ ملاقات کے دوران پیش کی تھی اس اقدام کا مقصد سرمایہ کار دوست ماحول بنانا پاکستان کے مینوفیکچرنگ اور برآمدی شعبوں میں ترک سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور دوطرفہ تجارت کو 5ارب ڈالر کے ہدف کی جانب لے جانا ہے اس ملاقات کے بعد پاکستان کی وزارت خارجہ’ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل’ سرمایہ کاری بورڈ اور سندھ ایکسپورٹ پروسیسنگ زون اتھارٹی کے اعلیٰ سطح وفد نے حال ہی میں استنبول اور انقرہ کا دورہ مکمل کیا، وفد نے ترک حکومتی اہلکاروں اور کاروباری راہنمائوں سے ملاقاتیں کیں تاکہ کراچی میں ایکسپورٹ پراسیسنگ زون قائم کرنے کی اہمیت اجاگر کی جا سکے ایک سینئر پاکستانی عہدیدار کے مطابق پاکستان نے ترک حکام کو کراچی انڈسٹریل پارک کے دورے کے دعوت دی ہے جہاں 1000 ایکڑ زمین ترکیہ کے لیے مخصوص کی گئی ہے ان کی جلد دورے کی توقع ہے ملاقاتوں کے دوران پاکستانی وفد نے کراچی تزویراتی محل وقوع’ ترقی یافتہ بنیادی ڈھانچے اور مشرق وسطیٰ ایشیائی منڈیوں سے قربت کو اجاگر کیا وفد نے استنبول اور انقرہ میں قائم ترک ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کا دورہ بھی کیا تاکہ ان کے آپریشنل ماڈلز کو سمجھا جا سکے ترکیہ کو (ای پی زی) کے قیام کا 60 سے زائد کا تجربہ ہے، جن میں سے پہلا 1960ء کی دہائی میں قائم کیا گیا تھا ایکسپورٹ پروسیسنگ زون سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مراعات کیلئے جانے جاتے ہیں جن میں 20سالہ ٹیکس چھوٹ’ معمولی اخراجات اور بجلی’ پانی وگیس کی بلاتعطل سہولیات شامل ہیں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو 2024ء میں 4ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 30فیصد زیادہ ہے اب دونوں ملکوں کا ہدف 5ارب ڈالر کی تجارت کا حصول ہے پاکستان نے ترکیہ کو 352 ملین ڈالر کی برآمدات کیں جن میں کپاس اور سوتی کپڑے سرفہرست تھے اس کے بعد یارن ملبوسات دھاتیں اور تیل دار بیج شامل تھے جبکہ ترکیہ کی پاکستان کو برآمدات 50.8 ملین ڈالر رہیں جن میں برقی مشینری’ ٹیکسٹائل مشینری’ پلاسٹک’ کیمیکل اور فیبرک شامل تھے مجوزہ کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کو ایک ممکنہ گیم چینجز قرار دیا جا رہا ہے پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ یہ صنعتی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز کر سکتا ہے جہاں ترکیہ اپنی کجھ صنعتی پیداواری یونٹس کراچی منتقل کرے گا تاکہ لاگت میں کمی اور منڈیوں تک بہتر سائی حاصل کی جا سکے اس کے علاوہ موجودہ ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) کو وسعت دینے کی کوششیں بھی جاری ہیں اور دونوں ممالک مکمل فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) پر بھی غور کر رہے ہیں،، موجودہ حکومت کی اس وقت سب سے زیادہ توجہ معاشی استحکام پر ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہیں یہ کوشسیں باوآور بھی ثابت ہو رہی ہیں وزیراعظم شہباز شریف نے اپریل 2025ء میں ترکیہ کے صدر سے ملاقات کر کے ان کو کراچی میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے اراضی سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی کی پیشکش کی تھی اس حوالے سے پاکستانی وفد نے ترکیہ کی ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کا دورہ کر کے جائزہ لیا تھا اور ترکیہ کو یقین دلایا تھا کہ اسے ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کیلئے 1000ایکڑ زمین کے ساتھ ساتھ بہت سی دیگر سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی جن کی بدولت ترکیہ کو آسانیاں ملیں گی لہٰذا ترکیہ کو پاکستان کی پیشکش قبول کر لینی چاہیے اگر ترکیہ کراچی میں ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کے قیام کیلئے تیار ہو جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اس سرمایہ کاری کے بڑے فوائد حاصل ہوں گے، علاوہ ازیں تجارتی روابط میں مزید اضافہ کیلئے بھی کوششوں کو تقویت ملے گی وزیراعظم پاکستان کی ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے مختلف ممالک کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت خوش آئند ہے اور امید کی جا رہی ہے آئندہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری مزید بڑھے گی اور اس اقدام سے معیشت مستحکم اور روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہو گا جو ملکی خوشحالی کا باعث بنے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں