21

پاکستان مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل چاہتا ہے (اداریہ)

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ فلسطین کے حوالے سے قائداعظم کی پالیسی پر ہی عمل پیرا ہیں اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی’ غزہ امن منصوبے کیلئے صدر ٹرمپ نے جو 20پوائنٹس دیئے وہ من وعن ہمارے نہیں’ 8مسلم ممالک کی ٹیم سے ٹرمپ کے مذاکرات میں شیئر کئے گئے ڈرافٹ کے جواب میں اپنا مسودہ دیا تھا لیکن جو اعلان ہوا اسلامی ملکوں کا نہیں جو 20نکاتی ڈرافٹ فائنل ہوا اس میں تبدیلیاں کی گئیں اور 20نکاسی ڈرافٹ میں تبدیلیاں ہمیں قبول نہیں’ سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ نیٹو طرز کا اتحاد بن جائے گا غزہ میں امن بیانات سے نہیں عملی اقدامات سے ہی ممکن ہو گا 8وزراء خارجہ کی ٹرمپ سے باضابطہ ملاقات سے قبل بھی ایک ملاقات ہوئی’ اسرائیل کا لفظ ہمارا نوگوایریا ہے پاکستان کی ریاست پالیسی تو دو ریاستی حل رہی ہے قومی اسمبلی میں پالیسی خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ جنرل اسمبلی جانے سے پہلے ہماری بات ہوئی کہ اقوام متحدہ’ یورپی یونین اور عرب ممالک غزہ میں خونریزی رکوانے میں ناکام ہو چکے ہیں ہماری کوشش تھی کہ کچھ ممالک کے ساتھ ملکر امریکہ جو آخری امید ہے اسے انگیج کیا جائے اور خون ریزی’ بھوک سے اموات اور بے دخلی اور مغربی کنارے کو ہڑپ کرنے کے منصوبے کو روکا جائے نائب وزیراعظم نے کہا کہ 5عرب ممالک پاکستان’ ترکیہ اور انڈونیشیا کے صدور اور وزرائے اعظم نے اپنے وزراء خارجہ کے ہمراہ امریکی صدر سے ملاقات کی اسحاق ڈار نے انکشاف کیا ٹرمپ سے ہونے والی مسلم ممالک کے راہنمائوں کی ملاقات سے قبل ایک اور بھی ملاقات ہوئی’ یہ بات ذرائع ابلاغ میں نہیں آئی کیونکہ خدشہ تھا کہ اس معاملے کو خراب کرنے والے میدان میں کود پڑیں گے، صدر ٹرمپ سے ملاقات سے ایک روز قبل 8ممالک کے وزرائے خارجہ کی ٹرمپ کے ساتھ اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز کے اندر غیر رسمی ملاقات ہوئی جس میں ہم نے بات کی کہ اس وقت جو ہو رہا ہے وہ شرمناک ہے اگر ہم اسے روک نہیں سکتے تو پھر جنرل اسمبلی کا کیا فائدہ؟ صدر ٹرمپ نے ہماری باتوں پر مثبت ردعمل دیا اور کہا کہ پھر اس طرح کریں کہ آپ کے 8وزرائے خارجہ میری ٹیم کے ساتھ بیٹھ جائیں اور کوئی قابل عمل حل پیش کریں اس میں کسی کا ذاتی ایجنڈا نہیں تھا اگلے روز دوبارہ ملاقات طے ہوئی قطری سفارتخانے میں ملاقات ہوئی جسے منظرعام پر نہیں لایا گیا 20نکاتی پروپوزل دیا گیا جس پر ہم نے کہا کہ ہم مشاورت کے بعد اگلے روز جواب دیں گے ہم نے اسی ڈرافٹ میں رہتے ہوئے اپنی چیزیں شامل کیں اور 8ممالک کا حتمی ڈرافٹ امریکہ کو بھجوایا جو ہفتے کو امریکی انتظامیہ کو موصول ہوا اسحاق ڈار نے کہا امریکہ نے پیر کو 20نکاتی منصوبے کا اعلان کیا اسحاق ڈار نے کہا کہ منگل کو پریس بریفنگ میں واضح طور پر اعلان کیا کہ ٹرمپ کا 20نکاتی منصوبہ ہمارا نہیں ہے ہمارے مسودے میں تبدیلیاں کی گئی ہیں میرے پاس ریکارڈ موجود ہے،، نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ نے کہا ہے کہ فلسطین کے حوالے سے امریکی منصوبہ قابل عمل نہیں کیونکہ اس میں ہمارے علم میں لائے بغیر تبدیلیاں کی گئیں جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کا جھکائو اسرائیل کی طرف ہے اور اسرائیل امریکہ کی سرپرستی میں غزہ کو ہڑپ کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے کتنے دُکھ کی بات ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کی بربریت سے 64ہزار افراد شہید اور ڈیڑھ لاکھ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں غزہ انسانوں کے قبرستان کے ساتھ ساتھ عالمی ضمیر کا قبرستان بھی بن چکا ہے مگر امریکہ اور عالمی قوتیں اس اہم ترین مسئلہ کو حل کرنے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتیں جو افسوسناک ہے دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں مگر انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں خاموش ہیں اسرائیل دنیا کے امن کیلئے خطرہ بنتا جا رہا ہے اس کو سبق سکھانا ضروری ہے اگر 57مسلم ممالک صہیونیوں کے خلاف متحد ہو کر اس کا مقابلہ کریں تو اسرائیل کو تباہ وبرباد کر سکتے ہیں ضرورت اس امر یک ہے کہ تمام مسلم ممالک اپنا اتحاد قائم کریں اور پوری قوت سے یہود ونصاریٰ پر چڑھ دوڑیں اور دنیا کے امن کو برباد کرنے والوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے کاری ضرب لگا دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں