سیارہ زحل میں خلائی زندگی موجود ہونیکا امکان

نیو یارک ( مانیٹرنگ ڈیسک )نظام شمسی کا وہ مقام دریافت جہاں خلائی زندگی موجود ہونیکا قوی امکان ہے،سائنسدانوں نے نظام شمسی کے اس مقام کی نشاندہی کی ہے جہاں زمین سے ہٹ کر کسی قسم کی زندگی موجود ہوسکتی ہے۔ سائنسدانوں کے خیال میں سیارہ زحل کے چھٹے بڑے چاند انسلیدس میں کسی قسم کی زندگی موجود ہو سکتی ہے۔یورپین اسپیس ایجنسی (ای ایس اے) کے مطابق انسلیدس کے زیرزمین موجود پانی کے سمندروں کی گہرائی میں کسی قسم کی خلائی زندگی موجود ہوسکتی ہے۔اگرچہ بظاہر یہ چاند بنجر لگتا ہے مگر اس کے جنوبی قطب کے قریب برف کے ننھے ترین ذرات مسلسل خلا میں خارج ہوتے ہیں۔ناسا کے ریٹائر کیسینی اسپیس کرافٹ مشن کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے دوران سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ ان برفانی کرسٹلز میں پیچیدہ نامیاتی مالیکیولز موجود ہوتے ہیں۔اس حوالے سے ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ ان میں سے کچھ مالیکیولز ایسے کیمیائی ردعمل کا نتیجہ ہوتے ہیں جو زندگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔محققین کے مطابق اس دریافت کا مطلب یہ ہے کہ زحل کا یہ چاند زندگی کی معاونت کی اہلیت رکھتا ہے۔اس چاند میں سیال پانی کی سپلائی مسلسل جاری رہتی ہے، ہائیڈرو تھرمل توانائی وہاں موجود ہے جبکہ ایسے کیمیائی عناصر اور پیچیدہ نامیابی مالیکیولز بھی وہاں موجود ہیں جو زندگی کے لیے ضروری ہیں۔اس تحقیق سے ٹھوس بنیادوں پر انسلیدس میں زندگی کی موجودگی ثابت نہیں ہوتی، مگر ایسا قوی امکان ضرور ہے کہ وہاں کسی قسم کی زندگی موجود ہوسکتی ہے۔جرمنی کی Freie Universitt سے تعلق رکھنے والے تحقیقی ٹیم کے قائد ڈاکٹر نوزیر خواجہ نے بتایا کہ اس چاند پر زندگی دریافت نہ ہونا بھی بہت بڑی دریافت ہے کیونکہ اس سے یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ ایسے موزوں ماحول میں کسی قسم کی زندگی کیوں موجود نہیں۔اس چاند کی سطح پر درجہ حرارت بہت زیادہ کم ہوا ہے جو کہ منفی 201 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوسکتا ہے۔مگر سائنسدانوں نے اس کی برفانی سطح کے نیچے ایک بڑے سیال سمندر کو دریافت کیا ہے۔پانی کی پھوار چاند کے جنوبی قطب کے قریب موجود دراڑوں سے نکلتی ہے اور پھر سطح پر گر جاتی ہے جبکہ کچھ برفانی کرسٹلز بالائی خلا تک بھی چلے جاتے ہیں۔ڈاکٹر نوریز خواجہ نے بتایا کہ ہم پہلے ہی متعدد نامیاتی مالیکیولز ان برفانی ذرات میں تلاش کرچکے ہیں۔مگر چونکہ ان میں سے کچھ ذرات سیکڑوں پرانے تھے تو سائنسدان پریقین نہیں تھے کہ ان میں موجود کیمیکلز سورج کی ریڈی ایشن کا نتیجہ نہیں۔مگر 2008 میں ناسا کا ریٹائر اسپسی کرافٹ اس چاند کے قریب ترین گیا اور ڈیٹا اکٹھا کیا جس پر اب تحقیقی کام کیا جا رہا ہے۔اسی مشن کے دوران نئے برفانی کرسٹلز کا ڈیٹا جمع کیا گیا اور برسوں سے ڈاکٹر نوریز خواجہ اور ان کی ٹیم اس پر کام کر رہی ہے۔اب انہوں نے تصدیق کی ہے کہ تازہ برفانی کرسٹلز میں بھی وہ نامیاتی مالیکیولز موجود ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں