عطائی کے غلط انجکشن لگانے سے10سالہ بچہ چل بسا

جڑانوالہ(نامہ نگار)جڑانوالہ عطائی کے مبینہ غلط انجکشن سے ایک اور 10سالہ بچہ جاں بحق ہو گیا،محکمہ صحت لمبی تان کر سو گیا۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت کی مبینہ مجرمانہ خاموشی کے باعث جڑانوالہ و گرد و نواح میں عطائیت نے پنجے گاڑھ رکھے ہیں جگہ جگہ عطائیوں نے پرائیویٹ ہسپتال و کلینکس قائم کر رکھے ہیں جہاں وہ انسانی جانوں سے کھیلتے دکھائی دیتے ہیں گزشتہ روز چک نمبر 534 گ ب میں عطائی قربان علی نے 10 سالہ بچے حسن علی کو مبینہ طور پر غلط انجکشن لگایا جس سے اسکی موت واقع ہو گئی جاں بحق ہونیوالے بچے کا والد لاہور میں ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے بچے کی اچانک ہلاکت پر گھر میں کہرام مچ گیا اور ہر آنکھ اشکبار تھی اطلاع پر پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر ضروری کارروائی کے بعد لاش کو ورثا کے حوالہ کر دیا ہے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ محکمہ صحت کی جانب سے کاغذی کارروائیوں تک عطائیوں کیخلاف کارروائی کی جاتی ہے جس پر عوامی سماجی حلقوں میں شدید تحفظات پائے جا رہے ہیں عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف،صوبائی سیکرٹری ہیلتھ،سیکرٹری ہیلتھ پنجاب،کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر رنگزیب گورائیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ عطائیت کیخلاف زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی طور پر کارروائیاں عمل میں لائی جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں