اکنامک سروے کیلئے1314اساتذہ تعینات،تعلیمی نظام متاثر ہونیکا خدشہ

ٹھیکریوالہ (نامہ نگار) محکمہ تعلیم فیصل آباد نے اکنامک سروے کے لیے 1314اساتذہ کو ڈیوٹی پر تعینات کر دیا، تین ماہ کے سروے سے تعلیمی نظام متاثر ہونے کا خدشہ۔ محکمہ تعلیم فیصل آباد نے رواں سال کے اکنامک سروے کے لیے ضلع بھر کے 1314 اساتذہ کو ڈیوٹی پر تعینات کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں اساتذہ کی ٹریننگ کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق یہ سروے تین ماہ کے اندر مکمل کیا جائے گا۔محکمہ کی جانب سے جاری احکامات کے تحت اس سروے میں حصہ لینے والے اساتذہ کو ایک لاکھ بیس ہزار روپے (120,000) بطور اضافی معاوضہ دیا جائے گا۔ ایجوکیشن رائٹس کمیشن پاکستان کے چیئرمین محمد اسلم بٹ’ رانا شاہد مقرب’ حافظ نجف’ مرزا ذوالفقار’ چوہدری نواز گجر’ علی اویس ورک’ رانا اشفاق’ رانا شاہد’ یاسر عرفات ودیگر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے پہلے ہی عملہ کی کمی کے شکار سرکاری اسکولوں میں تعلیمی نقصان مزید بڑھ جائے گا۔ فیصل آباد کے متعدد اسکولوں میں پہلے ہی تدریسی عمل متاثر ہے۔ اب جب مزید 1314اساتذہ کو تین ماہ کے لیے سروے میں مصروف کر دیا گیا ہے تو طلبہ کی پڑھائی، سلیبس کی تکمیل، اور امتحانی تیاری بری طرح متاثر ہونے کا امکان ہے۔ اساتذہ نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ ان ہی تین مہینوں میں اسکولوں میں سالانہ ٹیسٹ، سلیبس کی تکمیل اور نتائج کی تیاری جیسے اہم کام جاری ہوتے ہیں۔ دوسری جانب، نجی تعلیمی ادارے اپنا سلیبس مکمل کر کے ٹیسٹ سیشن کا آغاز کر چکے ہیں، جس سے تعلیمی معیار میں فرق بڑھنے کا خطرہ ہے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق یہ سروے قومی سطح پر ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے ضروری ہے، تاہم ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر یہ سروے اسکولوں کے اوقات سے ہٹ کر یا چھٹیوں میں کیا جائے تو بچوں کے تعلیمی نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ محمد اسلم بٹ کا مزید کہنا ہے کہ سموگ کے خطرات بھی سر پہ منڈلا رہے ہیں، پھر سردیوں کی چھٹیاں، اور اب اضافی سروے ڈیوٹیاں اس سب کے بعد بچوں کا سلیبس مکمل ہونا ناممکن لگتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر استاد کلاس میں موجود ہی نہیں تو تعلیم کون دے گا؟۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں