ملک میں سبز انقلاب کیلئے آبی ذخائر کی تعمیر ناگزیر ہے

فیصل آباد (پ ر) فیصل آباد الیکٹرونکس اینڈ انسٹالمنٹ ایسوسی ایشن کے گروپ لیڈررانا محمد سکندراعظم خاں’ صدر چوہدری حبیب الرحمن گل’ جنرل سیکرٹری محمد علی نے کہا ہے کہ حکمران اور ادارے ڈیمز بنانے کے لیے مخلص نظر نہیں آرہے جس کی وجہ سے پاکستان کا کھربوں روپے کا پانی ضائع ہو رہا ہے جب تک ایسے کرپٹ لوگوں کو سزا نہیں دی جاتی اس وقت تک پاکستان میں ڈیمز بننا مشکل ہے’ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایسوسی ایشن کی کابینہ میٹنگ کے شرکاء سے کیا’ میٹنگ میں فیصل آباد الیکٹرونکس اینڈ انسٹالمنٹ ایسوسی ایشن کیچیئرمین رانا فخر حیات خاں’ سرپرست اعلیٰ چوہدری امانت علی’ سینئر وائس چیئرمین چوہدری مقصود احمد جٹ’ وائس چیئرمین چوہدری عاصم حبیب سمرائ’ فنانس سیکرٹری ملک وقاص احمد’ سینئر نائب صدر چوہدری شوکت جٹ’ نائب صدور میاں نذاکت علی’ خرم شہزاد’ چوہدری امتیاز علی کمبوہ’ رانا ادریس’ رانا طاہر محمود خاں’ ملک سیف الرحمن’ ملک اعجاز احمد’ رانا طارق عزیز’ چوہدری یعقوب گجر’ رانا سعید’ محمد علی ڈوگر’ چوہدری اویس اقبال نے شرکت کی’ انہوں نے کہا کہ ڈیمز اب ہماری شہ رگ بن چکے ہیں جس پر پوری پاکستانی قوم متحد ہو کر چند مفاد پرست لوگوں کی وجہ سے اس اہم مسئلے کو نظر انداز نہ کرے ورنہ سیلاب کی تباہ کاریاں ہر سال قیمتی جانیں اور کھربوں روپے کا پانی ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے مال مویشی بھی سمندر میں غرق کر دے گا اس لیے سب کو مل کر جدوجہد کرنا ہوگی’انہوں نے کہا کہ ڈیمز کی تعمیر معاشی نشو و نما کے لیے ضروری ہے’ ذخائر کی کمی کے باعث ہم اپنی زراعت’ توانائی اور گھریلو ضروریات کو پورا کرنے میں شدید مشکلات سے دوچار ہیں’ پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم کرنے کے لیے چھوٹے بڑے ڈیمز اور سیلابی و برساتی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے ذخائر کی تعمیر اشد ضروری ہے’ انہوں نے کہا پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر پانی کے ناقص انتظام اور ذخائر کی کمی کے باعث ہم اپنی زراعت توانائی اور گھریلو ضروریات کو پورا کرنے سے بھی قاصر ہیں جبکہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی مایوس کن ہے’ سیلاب کی وجہ سے ہر سال تباہ کاریاں ہمارے لیے نشانیاں چھوڑ جاتی ہیں مگر ہم نے ان نشانیوں سے کبھی بھی سبق نہیں سیکھا’ مقررین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے سالانہ چار ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے حکومت جنگی بنیادوں پر اقدامات کا آغاز کرے عالمی دنیا کو متوجہ کیا جائے کیونکہ اگلے سال سیلاب کی شدت 22 فیصد زیادہ ہونے کی پیش گوئی الارمنگ صورتحال ہے جس کے لیے آج سے پیش بندی کی ضرورت ہے اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو مستقبل قریب میں ہمیں شدید بحرانوں کا شکار ہونا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں