پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حکومتی سرگرمیاں تیز

لاہور (بیوروچیف) الیکشن کمیشن کے بلدیاتی الیکشن کرانے بارے فیصلے پر پنجاب حکومت متحرک ہوگئی’پنجاب حکومت نے بلدیاتی ایکٹ 2025 کو اسمبلی سے فوری پاس کرانے کا فیصلہ کر لیا۔ حکومتی ارکان اسمبلی کو ایوان میں100فیصد حاضری کی ہدایت کردی گئی۔ ایوان وزیر اعلیٰ سے ارکان اسمبلی کو باقاعدہ ہدایات جاری کر دی گئیں لوکل گورنمنٹ ایکٹ2025کوقائمہ کمیٹی برائے بلدیات نے اتفاق رائے سے پاس کیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں حلقہ بندیوں کاآغازکر دیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے ضلعی دفاترحلقہ بندیاں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 کے تحت کرینگے۔ نیا لوکل گورنمنٹ ایکٹ2025 اسمبلی سے منظور ہونے پر 2022کی حد اورحلقہ بندی غیرفعال ہوجائیگی۔ بلدیاتی ایکٹ 2025 کے تحت یونین کونسلز کی آبادی 22 ہزار سے 27 ہزار نفوس پر مشتمل ہوگی۔یونین کونسلز میں 9 کونسلرز براہ راست الیکشن لڑیں گے۔ یوسیزمیں خاتون کونسلر، یوتھ کونسلر،لیبرکونسلر واقلیتی کونسلرکی 4مخصوص نشستیں ہونگی۔ یونین کونسل کا ہائوس مجموعی طور پر 13 ارکان پر مشتمل ہوگا۔ یوسی کے ممبرزووٹ کے ذریعے چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب کرینگے۔ نئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ2025کے نفاذ پر میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور ختم ہوجائیگی۔ لاہور میں ٹائون میونسپل کارپوریشنز وجود میں آئیں گی، ٹائون کارپوریشنز کی باقاعدہ اسمبلی ہوگی۔ متعلقہ یونین کونسلزکے چیئرمین ٹائون میونسپل کارپوریشن کے ممبر ہونگے۔ نئے ایکٹ کے نفاذپر لاہور میں یوسیزکی تعداد 274 سے 400 سے زائد ہوجائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں